اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

استحکامِ پاکستان کا ناگزیر تقاضا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والی دشمن قوتیں ناکام ہوں گی۔ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں زیرِ تربیت افسران اور فیکلٹی ممبران سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے دفاعی افواج کے درمیان ہم آہنگی اور مستقبل کے جنگی چیلنجز سے باخبر رہنے کی اہمیت پر زور دیا۔ موجودہ دور میں ملک و قوم کو درپیش خطرات کے تناظر میں فیلڈ مارشل کا خطاب ایک جامع اور دوررس قومی گائیڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کا یہ کہنا کہ منفی پروپیگنڈا اور بیرونی دہشتگردی کے ذریعے پاکستان کی ترقی کا راستہ کسی صورت نہیں روکا جا سکتا‘دراصل اُن علاقائی اور عالمی قوتوں کیلئے دوٹوک پیغام ہے جو پاکستان کے خلاف پراکسی وار‘ ڈِس انفارمیشن اور داخلی خلفشار جیسے حربوں میں ملوث ہیں۔یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کے خلاف ان منفی مہمات کے پیچھے کون ہیں‘ اہم بات یہ ہے کہ ریاستی مشینری‘ خاص طور پر افواجِ پاکستان ان خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں اور بروقت اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے ان کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ تاہم وقت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم داخلی سیاسی خلفشار سے نکل کر ایک متحد قوم کے طور پر دنیا کو یہ پیغام دیں کہ پاکستان ایک باوقار‘ خودمختار اور ناقابلِ تسخیر ملک ہے۔

اس کیلئے ضروری ہے کہ قومی سطح پر ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے اور جو شکوے شکایتیں ہیں انہیں مل بیٹھ کر دور کیا جائے۔ اس وقت پاکستان کو ہائبرڈ وارفیئر کا سامنا ہے۔ گزشتہ برس مئی میں بدترین عسکری ہزیمت اٹھانے والا دشمن حربی میدان میں پسپائی اختیار کرنے کے بعد اب پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے گھٹیا حربوں کو قوت فراہم کر رہا ہے۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ہزیمت خوردہ دشمن پاکستان کی دفاعی طاقت کا براہِ راست سامنا کرنے کی جرأت کھو چکا ہے اسلئے وہ ڈیجیٹل دہشتگردی اور من گھڑت بیانیوں کے ذریعے عوامی ذہنوں کو پراگندہ کرنے اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے درپے ہے۔ تاہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ منفی ہتھکنڈوں اور پروپیگنڈے کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے اور ٹھوس حقائق کے سامنے وہ ریت کا گھروندا ثابت ہوتے ہیں‘ لہٰذا فیک نیوز سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ ذرائع ابلاغ کے مستند پلیٹ فارمز کو تقویت فراہم کی جائے اور ڈِس انفارمیشن کا مقابلہ مستند خبروں اور بااعتبار ذرائع ابلاغ کو آسانیاں بہم پہنچا کر کیا جائے۔ عسکری میدان کی فتوحات کو برقرار رکھنے اور دشمن کی پراکسیز کی بیخ کنی کیلئے پوری قوم کو فکری طور پر بیدار ہونا چاہیے تاکہ دشمن کے منفی حربوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

یہ جدید دور کی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ملک کا دفاع عسکری قوت یا دفاعی اقدامات تک محدود نہیں ہوتا ‘ یہ ایک کثیر جہتی عمل ہے جو داخلی اطمینان‘ عوام دوست حکمت عملیوں اور بہترین طرزِ حکمرانی سے منسلک ہوتا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز نے اپنے خطاب میں ترقی اور سکیورٹی کے اسی باہمی تعلق کو اجاگر کیا ہے کہ پائیدار ترقی کے حصول کیلئے مؤثر سکیورٹی اقدامات اولین شرط ہے مگر ان اقدامات کو عوام دوست پالیسیوں اور گڈ گورننس کی پشت پناہی حاصل ہونی چاہیے۔ عسکری ادارے ملک میں امن وامان کو فروغ دے سکتے اور سرحدی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا سکتے ہیں مگر معیشت کو سنبھالنا‘ ریاستی مشینری کو فعال کرنا‘ عدالتی و قانونی نظام کو بہتر بنانا اور روزمرہ کے مسائل کو حل کرنا خالصتاً سول اداروں کا کام ہے۔ لہٰذا حکومت اور سول اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا ادراک ہونا چاہیے ۔

ایسی پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی جن سے عام آدمی کو ریلیف ملے‘ انصاف کی فراہمی آسان ہو اور میرٹ کی بالادستی قائم ہو۔ سماجی و معاشی بہتری اور ریاست اورعوام کے تعلق کو مضبوط بنانا قومی سلامتی پالیسی کا ناگزیر تقاضا  ہے۔ جب عوام میں ریاستی تحفظ کا احساس مضبوط ہو گا تو از خود وہ ملکی دفاع میں بنیانٌ مرصوص کا کردار ادا کریں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں