سنگین طبی غفلت
ملتان کے نشتر ہسپتال میں ایچ آئی وی کے متاثرہ مریض کی عام مریضوں کے ساتھ ہونے والی سرجری نے درجنوں مریضوں اور طبی عملے کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔خبروں کے مطابق مریض کی ایچ آئی وی رپورٹ دیکھے بغیر اس کی سرجری کر دی گئی اور اگلے روز رپورٹ مثبت آ گئی۔ یہ محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ایسا معاملہ ہے جو سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کے بنیادی ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

نومبر 2024ء میں بھی اسی ہسپتال میں انفیکشن کنٹرول کیضوابط پر عمل نہ ہونے کے باعث ڈائیلسز کے دوران 30مریض ایچ آئی وی کا شکار ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئندہ علاج معالجے کے بنیادی ایس او پیز اور انفیکشن کنٹرول نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا مگر چند ہی ماہ بعد ایک مرتبہ پھر اسی نوعیت کی غفلت سامنے آ جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں اصلاحات زیادہ تر کاغذی کارروائی تک محدود رہتی ہیں۔ یہ معاملہ پورے نظامِ صحت کیلئے لمحۂ فکریہ ہے۔حکومت اس واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کر کے انکے خلاف سخت کارروائی کرے۔ علاوہ ازیں تمام ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول آڈٹ کو لازمی بنایا جائے‘ آپریشن تھیٹرز اور ڈائیلسز یونٹس کی باقاعدہ نگرانی‘ طبی عملے کی مسلسل تربیت کی جائے اور ایس او پیز پر عملدرآمد کو بہر صورت یقینی بنایا جائے۔