قومی منصوبوں میں تاخیر
پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے ادارے سی ڈی ڈبلیو پی نے تربیلا ڈیم کے پانچویں توسیعی منصوبے کی لاگت میں غیرمعمولی اضافے کا انکشاف کیا ہے۔ایک حالیہ اجلاس میں بتایا گیا کہ 1530میگاواٹ کے اس منصوبے کی لاگت 82 ارب روپے سے بڑھ کر 316 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے‘ یعنی منصوبہ اپنی اصل تخمینہ لاگت سے تقریباً 400 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔ یہ اضافہ محض ایک عددی فرق نہیں بلکہ قومی وسائل کے غیرمؤثر استعمال‘ ادارہ جاتی کمزوری اور ناقص نگرانی کا ثبوت ہے۔ اگر اس پراجیکٹ کی منصوبہ بندی حقیقت پسندانہ اور نگرانی مؤثر ہوتی تو شاید قومی خزانے کو اس قدر بھاری مالی بوجھ برداشت نہ کرنا پڑتا۔

یہ منصوبہ اگست 2024ء میں مکمل ہونا تھا مگر مختلف تکنیکی اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث اس میں تاخیر ہوتی چلی گئی۔ بعینہٖ صورتحال دیامر بھاشا ڈیم کے معاملے میں بھی سامنے آئی ہے جہاں پی سی ون چھ برس سے تاخیر کا شکار ہے اور منصوبے کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تربیلا ڈیم توسیعی منصوبے اور دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں تاخیر اور لاگت میں اضافے کے معاملے کا فوری نوٹس لے۔ آبی ذخائر جیسے اہم منصوبوں کی تکمیل میں غیرضروری تاخیر قومی سلامتی‘ توانائی کے مستقبل اور آبی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ منصوبوں کی پیشہ ورانہ نگرانی‘ شفاف مالیاتی نظام‘ بروقت فنڈنگ اور مؤثر پراجیکٹ مینجمنٹ کو یقینی بنایا جائے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔