اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

امن عمل و سفارت کاری

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر گزشتہ روز اہم سرکاری دورے پر تہران پہنچے۔ فیلڈ مارشل کا یہ دورہ ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے جس میں خطے میں قیام امن پر بات ہو گی۔ امریکہ ایران امن معاہدے کے حوالے سے یہ دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پہلے ہی ایران کے دورے پر ہیں جو بدھ کے روز رواں ہفتے کے دوران دوسری بار تہران پہنچے جہاں وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ان کی ملاقاتیں ہوئیں اور اطلاعات کے مطابق امن معاہدے کیلئے مسودوں پر تفصیلی بات چیت اور قیام امن کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔ پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران امریکہ معاملات میں پیش رفت کے شواہد سامنے آ رہے ہیں جس کی تصدیق دونوں جانب سے اعلیٰ عہدیداروں کے بیانات سے ہوتی ہے۔ دونوں ملک پچھلے دنوں ایک بار پھر تصادم کے کنارے پر پہنچ چکے تھے‘ جنگ کی دھمکیاں شدت اختیار کر چکی تھیں اور دنیا اس صورتحال کے شدید دباؤ میں تھی۔

جنگ کا پھیلاؤ‘ معاشی اثرات‘ توانائی کی مہنگائی اور تجارتی جہاز رانی کو درپیش رکاوٹوں کے اثرات زیر بحث آنے لگے‘ تاہم پاکستان کی کوششوں سے متحارب فریقین نے امن مذاکرات کی کوششوں کو ایک اور موقع دیا‘ اور ایسا لگ رہا ہے کہ اس صورتحال میں سے وہ امکان جنم لے سکتا ہے جو امریکہ اور ایران میں کسی معاہدے پہ منتج ہو سکتا ہے۔ خلیج فارس کے خطے میں پائیدار امن صرف علاقائی ممالک کی ضرورت نہیں‘ یہ عالمی معیشت اور سلامتی کے مفادات سے جڑا ہوا معاملہ ہے؛ چنانچہ امریکہ ایران امن معاہدہ پوری دنیا کی دلچسپی کا معاملہ ہے اس سلسلے میں ہونے والی کم سے کم پیش رفت بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں کی کوششیں زیادہ امید افزا ہیں اور اعلیٰ سطحی عہدیداروں کی گفتگو میں اس حوالے سے رجائیت کا عنصر زیادہ ہے۔ جیسا کہ امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو کے گزشتہ روز کے بیانات جن میں انہوں نے ایران کے ساتھ ڈیل کو پہلی ترجیح قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران سے معاہدہ طے پا جائے گا اور آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ا مریکہ ایران کشیدگی کا فی الفور اور پائیدار حل عالمی معیشت اور علاقائی سلامتی کا بنیادی تقاضا ہے۔

اس جنگ نے تین ماہ کے دوران عالمی معیشت کو جس طرح ہلا کر رکھ دیا ہے اس کی مثال پچھلی کئی دہائیوں کے کسی عالمی تنازعے میں نہیں ملتی۔ ہر ملک نے اپنے طور پر اس کشیدگی کی قیمت ادا کی ہے اور کیے چلے جاتے ہیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق اس جنگ میںخلیجی توانائی کی اہم ترین تنصیبات میں سے کم از کم 40کو شدید یا بہت شدید نقصان پہنچا اور توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کچھ تنصیبات خاص طور پر ایل این جی کے پلانٹس کی مرمت میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ عالمی معیشت کیلئے یہ المناک صورتحال ہے اور اس سے نکلنے کی تدبیر ناگزیر ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین جنگ کو اَنا کا مسئلہ بنانے سے گریز کریں۔ اسلام آباد میں دونوں پارٹیوں کو آمنے سامنے بٹھانے کا مقصد یہ تھا کہ فاصلے کم ہوں اور سفارتی عمل کی رفتار تیز ہو سکے‘ مگر اس کے باوجود ایران اور امریکہ میں اعتماد کا بحران اسی طرح موجود ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس سفارتی عمل کو نتیجہ خیز بنایا جائے۔ اس سلسلے میں بنیادی ذمہ داری امریکہ اور ایران پر عائد ہوتی ہے۔

پاکستان نے سفارتی اور ثالثی کی کوششوں سے دونوں متحارب پارٹیوں کو ایک نئے تصادم میں ملوث ہونے سے بچایا اور مذاکراتی کوششوں کا دھاگا ٹوٹنے نہیں دیا‘ تاہم کامیاب مذاکرات اور پائیدار امن کے لیے امریکہ اور ایران کو خلوص اور عزم کیساتھ سامنے آنا ہو گا۔ دونوں ملکوں کے لیے یہ لمحہ نئی شروعات کا لمحہ بھی ہو سکتا ہے‘ مگر اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنے کا عزم اور حوصلہ پیدا کیا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں