اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

موسمیاتی ناانصافیاں

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے دوشنبے میں منعقدہ عالمی واٹر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  کہا پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے‘اور یہ کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے دنیا کو اجتماعی اور سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ صنعتی ترقی کی دوڑ میں شامل بڑے اور ترقی یافتہ ممالک نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ماحول کو جس بے رحمی سے آلودہ کیا اس کے سزا اب پوری دنیا خصوصاً غریب اور ترقی پذیر ممالک بھگت رہے ہیں۔ مگر حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جن ممالک کی صنعتی ترقی اس تباہی کا بنیادی سبب بنی ‘ وہ ماحولیاتی تحفظ کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے۔

پاکستان اس موسمیاتی ناانصافی کی ایک واضح مثال ہے جہاں غیرمعمولی بارشوں‘ ہیٹ ویوز‘ گلیشیرز کے تیز پگھلاؤ‘ خشک سالی اور تباہ کن سیلابوں نے شدید تباہی مچائی ہے۔ اسلئے عالمی برادری خصوصاً ترقی یافتہ ممالک پر یہ اخلاقی اور انسانی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ماحولیاتی تحفظ اور کلائمیٹ فنانسنگ کیلئے کیے گئے وعدوں کو عملی شکل دیں۔ پاکستان کو محض ہمدردی نہیں بلکہ عالمی ماحولیاتی کانفرنسوں میں کیے گئے وعدوں کے مطابق عملی تعاون‘ جدید ٹیکنالوجی اور مالی معاونت کی ضرورت ہے تاکہ اس عالمی بحران کے تباہ کن اثرات نمٹا جا سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں