امن سب کی ضرورت
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کیلئے اپنے مطالبات کی ایک فہرست ٹروتھ سوشل کے ذریعے پیش کی ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار یا بم نہیں بنائے گا‘ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جائے‘ کوئی ٹول ٹیکس لاگو نہیں ہو گا اور تمام بارودی سرنگوں کو ختم کر دیا جائے۔ صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے اور ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے تعاون سے افزودہ یورینیم کو امریکی نگرانی میں بازیاب کرنے اور ناکارہ بنانے کا کہا ہے۔ اسی بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ دیگر ’’کم اہم معاملات‘‘ پر اتفاق ہو چکا ہے۔ امریکی صدر کی ان شرائط پر فریق ثانی کا کیا رد عمل ہے‘ یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔ مگر یہ واضح ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیت امریکہ ایران تنازعے کی بنیادی وجہ ہے۔ اگرچہ ایران کا مؤقف یہ رہا ہے کہ جوہری ہتھیار حاصل کرنا اس کا مطمح نظر نہیں اور ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا دستخطی بھی ہے‘ مگر اس کے باوجود ایران کا جوہری پروگرام امریکہ کیلئے شبہات کا باعث رہا ہے اور صدر ٹرمپ نے اسی خطرے کو بنیاد بنا کر گزشتہ برس ایران پر حملہ کیا اور رواں سال کی جنگ بھی اسی بہانے شروع کی گئی۔ جس کی قیمت ایران‘ امریکہ‘ خلیجی خطے اور دنیا بھر کو برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ متحارب ملکوں‘ متاثرہ خطے اور دنیا کو اس مشکل سے نکالنے کیلئے نتیجہ خیز پیش رفت ناگزیر ہے۔ یہ واضح ہے کہ کوئی فریق اس تنازعے کو طول دینے کا خواہش مند نظر نہیں آتا نہ ہی اس میں سے کسی کیلئے کوئی فائدہ ہے۔ امریکہ جو دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور عسکری طاقت ہے‘ یہ اس کے حق میں بھی نہیں۔ دوسری جانب خلیجی ریاستوں نے امریکہ کی اس مہم جوئی سے ناقابلِ تلافی نقصان اٹھایا ہے۔ توانائی کی رسد ہی نہیں اس خطے کے امن‘ استحکام اور اعتماد کو بھی گہری ٹھیس پہنچی اور اس کے ناقابلِ فراموش معاشی اثرات ہیں۔

امریکہ پر اس مہم جوئی کے اثرات بھی واضح اور تلخ ہیں خاص طور پر تیل کی قیمتوں‘ مہنگائی اور دفاعی اخراجات میں اضافے کے تناظر میں۔ چونکہ دنیا کی تقریباً 20فیصد تیل کی تجارت آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے اس لیے کشیدگی کے دوران خام تیل کی قیمتیں 120ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں جس کے نتیجے میں امریکہ کی کئی ریاستوں میں پٹرول کی قیمت چار ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی۔ اس تنازع کے باعث 2026ء میں امریکہ میں مہنگائی کی شرح تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اپریل میں پٹرول کی قیمتوں میں 5.5فیصد اضافے کے ساتھ مہنگائی کا دباؤ بڑھ گیا۔ دوسری جانب امریکی دفاعی اخراجات میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پینٹاگون کے ایک سینئر عہدیدار نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران میں امریکہ کی جنگ پر اب تک 29بلین ڈالر لاگت آئی ہے تاہم بعض ڈیموکریٹک رہنماؤں اور کئی ماہرینِ اقتصادیات کا خیال ہے کہ یہ تخمینہ خاصا ’’محتاط‘‘ ہے۔ ان ماہرین اور قانون سازوں کے خیال میں اس جنگ کی اصل لاگت 630بلین ڈالر اور ایک ٹریلین ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے۔ واضح رہے ٹرمپ انتظامیہ نے آئندہ برس کیلئے ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کا مطالبہ کیا ہے جو امریکہ کے موجودہ دفاعی اخراجات سے 42فیصد زیادہ اور دوسری عالمی جنگ کے بعد سے امریکی فوجی اخراجات میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی طرح سے ایران کی عسکری مہم جوئی کو امریکہ کے حق میں ثابت نہیں کرتی؛ چنانچہ اس سلسلے کو جہاں تک ممکن ہو جلد از جلد بند ہونا چاہیے۔ خلیجی خطے کیلئے بھی‘ دنیا کیلئے بھی‘ اور خود امریکہ کیلئے یہی بہتر ہے۔ کوشش کی جانی چاہیے کہ پائیدار جنگ بندی اور امن معاہدے میں غیرضروری رکاوٹیں مسئلہ نہ بنیں۔ یہ جس قدر جلد ہو اتنا ہی سبھی فریقین کیلئے بہتر ہے۔