اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پٹرولیم قیمتیں

حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 22‘ 22 روپے فی لٹر کمی کا اعلان کیا ہے‘ جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 381 روپے 78 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 380 روپے 78 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجہ گزشتہ ہفتے کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 11 فیصد جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں تقریباً 10 فیصدتک ہونے والی نمایاں کمی ہے۔اس عالمی رجحان کو بنیاد بناتے ہوئے حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان ضرور کیا ہے لیکن  حکومت اب بھی پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز کی صورت میں صارفین سے بھاری رقوم وصول کر رہی ہے۔

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اپریل 2024ء سے مارچ 2026ء کے دوران حکومت نے صرف پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 2725 ارب روپے سے زائد رقم وصول کی ہے‘ جو کہ اسی عرصے میں آئی ایم ایف سے لیے گئے دونوں قرض پروگراموں کے مجموعی حجم (تقریباً 2340 ارب روپے) سے بھی زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ ریاستی محصولات کا بڑا حصہ پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس لیے پٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں کے موجودہ ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کے بغیر عوام کو کوئی ریلیف میسر نہیں آ سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیساتھ ساتھ پٹرولیم لیوی میں کمی بھی یقینی بنائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں