بجلی ریلیف ناگزیر
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ شعبہ توانائی میں اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے‘ گھریلو صارفین کیلئے 16 فیصد اور پروٹیکٹڈ صارفین کے بلوں میں 32 فیصد کمی کی گئی‘ مجموعی طور پر 527 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے‘ آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی سے 3500 ارب روپے کی بچت ہوئی۔ ملک میں بجلی کی قیمتوں کا مسئلہ کئی برسوں سے وبال بنا ہوا ہے اور تمام تر حکومتی اقدامات اور دعوئوں کے باوجود عوام اور صنعتوں پر اس کا بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران متعدد رعایتوں‘ پیکیجز اور سبسڈیز کا اعلان کیا گیا لیکن عملاً فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ‘ سرچارجز اور دیگر اضافی ٹیکسوں کے ذریعے بجلی کے نرخ مسلسل بڑھائے جا رہے ہیں۔

بجلی کی قیمتیں عام صارفین کیلئے ہی نہیں‘ صنعتی اور زرعی شعبے کیلئے بھی تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں۔ مہنگی بجلی کی وجہ سے پیداواری لاگت اس حد تک بڑھ چکی کہ ملکی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مسابقت کی صلاحیت کھو رہی ہیں اور برآمدات گراوٹ کا شکار ہیں۔ حکومت جب تک مسئلے کی جڑ تک نہیں پہنچے گی تب تک حل کی امید عبث ہے۔ اگر کپیسٹی پیمنٹس اور فرسودہ انفراسٹرکچر‘ لائن لاسز اور بجلی چوری جیسے خساروں کا نزلہ عوام پر ہی گرتا رہا تو نہ صرف بجلی کی قیمت صارفین کی پہنچ سے باہر ہو جائے گی بلکہ یہ مہنگی توانائی ملکی معیشت کو بھی ٹھپ کر دے گی۔