ٹیکس خسارہ یا غیر حقیقی ہدف؟
فیڈرل بورڈ آف ریونیو رواں مالی سال کے دوران اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ مئی کے مہینے میں 184 ارب اور رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ (جولائی تا مئی) میں 868 ارب روپے کا مجموعی ٹیکس خساہ محکمے کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب علم ہوتا ہے کہ مالی سال میں کوئی ایک مہینہ بھی ایسا نہیں گزرا جب ٹیکس وصولی کا ہدف کامیابی سے پورا کیا گیا ہو۔ مالی سال کے آخری ماہ یعنی جون میں سالانہ ٹیکس ہدف کو پورا کرنا لگ بھگ ناممکن ہو چکا کیونکہ 13979 ارب کے سالانہ ہدف تک پہنچنے کیلئے ایک مہینے میں 2752 ارب روپے کی ٹیکس وصولی درکار ہے جو موجودہ نظام کی استعداد سے باہر ہے۔ ٹیکس اہداف میں مسلسل ناکامی کے بعد حکومت کو اس سنگین مسئلے پر اب سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

یا تو سالانہ ٹیکس اہداف کا تعین ملکی معیشت اور محکمے کی اصل استعداد کو دیکھ کر حقیقت پسندانہ بنیادوں پر کیا جائے یا پھر سب سے پہلے فرسودہ ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات پر توجہ دی جائے۔ ٹیکس چوری کے راستے بند اور غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا اور ملکی معیشت کو پائیدار بنیاد فراہم کرنا ممکن نہیں۔ رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان اور تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ ڈالنے یا پٹرولیم لیوی جیسے بالواسطہ ہتھکنڈوں سے ٹیکس خسارے کو عارضی طور پر چھپانے کی پالیسی اب مزید نہیں چل سکتی۔