مزید ٹیکسوں کا بوجھ!
آئندہ مالی سال کا بجٹ بھی آئی ایم ایف کی شرائط سے جکڑا ہوا معلوم ہوتا ہے جس میں حکومت کی بنیادی دلچسپی عوام کو معاشی آسانیاں بہم پہنچانے کے بجائے مالیاتی ادارے کی تجاویز اورشرائط کی تعمیل میں نظر آتی ہے۔ حالیہ دنوں تواتر سے ایسے شواہد سامنے آ رہے ہیں جو آنے والے بجٹ اور معاشی فیصلہ سازی میں آئی ایم ایف کے گہرے عمل دخل اور اثرو رسوخ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ مثال جنرل سیلز ٹیکس کی معیاری شرح کو 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کی تجویز ہے جس کا مقصد آئندہ مالی سال کیلئے ریونیو کی بلند شرح کے حصول کو یقینی بنانے میں آسانی پیدا کرنا بتایا جاتا ہے۔ جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافے سے خیال کیا جا رہا ہے کہ ریونیو کی مد میں 250 سے 300 ارب روپے زیادہ حاصل ہو سکتے ہیں‘ مگر یہ اضافہ شہریوں پر اضافی مالی بوجھ اور مہنگائی میں اضافے کی قیمت پر ہو گا۔ جنرل سیلز ٹیکس پہلے ہی خوراک سمیت سبھی اشیائے ضروریہ پر لاگو ہے اور عام آدمی کی جیب پر اس کا اچھا خاصا بوجھ ہے۔

ضرورت تو اس بات کی تھی کہ حکومت کم از کم دودھ سمیت خوراک کے بنیادی اجزا اور ادویات پر جی ایس ٹی کی شرح میں کمی کرتی تاکہ مہنگائی میں کچھ کمی آتی۔ ان حالات میں جی ایس ٹی میں اضافے کا مطالبہ سراسر غیر منطقی اور اضافی ہے‘ جس کی نہ تو معاشی حالات اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی اس کی کوئی گنجائش نظر آتی ہے۔ یہ غیر حقیقی اقدامات جو لوگوں کی معیشت کو کمزور کریں گے‘ آئی ایم ایف کے ریونیو اہداف میں اضافے کے نتائج ہیں۔ ریونیو میں اضافے کیلئے ضروری تھا کہ ایف بی آر کے نظام میں وہ بنیادی اصلاحات کی جاتیں جن سے اس ادارے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا‘ مگر اس پر کام کرنے اور ٹیکس چوری کے رخنے بند کرنے کے بجائے ہر سال پہلے سے لاگو ٹیکسوں میں اضافے کی روایت برقرار ہے۔ جی ایس ٹی میں اضافے کا مطالبہ اس کی واضح مثال ہے۔ اس سے قبل پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے بھی یہی ثابت کرتے ہیں کہ ریونیو اہداف پورے کرنے کیلئے ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے بجائے ٹیکس کی شرح بڑھانے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ معیشت کا ایک محدود حصہ تو ٹیکسوں کے انتہائی بوجھ تلے پس رہا ہے جبکہ ایک بڑا حصہ بدستور ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔
حالیہ برسوں میں ٹیکسوں وصولیوں میں بہت بڑا اضافہ ہوا۔ 2021ء سے 2025ء تک ٹیکس وصولی 4764.3 ارب سے بڑھ کر 11744.29 ارب روپے تک پہنچ گئی اور رواں سال ایف بی آر کا ٹیکس وصولی کا ہدف 14307 ارب روپے تھا جسے بعد میں کم کر کے 13979 ارب روپے کیا گیا۔ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں1205 ارب روپے جمع کئے گئے۔ آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس ریونیو کا ہدف 15267 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے‘ اور اس اضافی ہدف کو پورا کرنے کے لیے اگر صارفین پر جی ایس ٹی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے جیسی تجاویز زیر غور ہیں تو یہ معیشت کے لیے کوئی احسن اقدام نہیں۔ ریونیو کے اہداف میں اضافے کے لیے معیشت کا مکمل طور پر دستاویزی ہونا اور ہر شعبے سے ٹیکس وصول کیا جانا ناگزیر ہے۔
اگر چند ایک بندھے ٹکے شعبے ہی ٹیکس کے دائرہ کار میں رہیں یا وہ صارفین جنہیں توانائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مزید سے مزید تر ٹیکسوں کا بوجھ اٹھانا پڑے تو یہ ٹیکس اہداف میں اضافے کا کوئی مناسب طریقہ نہیں۔ ٹیکس میں مساوات کا تقاضا ہے کہ اس کا اثر یکساں ہو نہ کہ کسی ایک یا چند ایک شعبے ہی اس کے سزاوار ٹھہریں۔ اس طرح ٹیکس وصولی بھی معیشت کے حجم کے مطابق ہونی چاہیے نہ کہ حکومتی ضروریات کے حساب سے۔ پاکستان کی معیشت میں ٹیکس وصولی کی گنجائش موجود ہے مگر اس کے لیے ٹیکس نظام کی اصلاح ناگزیر ہے۔