غربت میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 2025-26ء کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے‘ یعنی تقریباً ہر سو میں سے 29 پاکستانی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ افسوسناک ہے کہ چند برس قبل‘ 2018-19ء میں یہ شرح 21.9 فیصد تھی۔ یوں چند سالوں کے دوران لاکھوں افراد خطِ غربت سے نیچے جا چکے ہیں‘ جو حکومتی معاشی پالیسیوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق غربت کا گراف تمام صوبوں میں یکساں نہیں۔ بلوچستان میں یہ شرح سب سے زیادہ‘ 47فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ خیبر پختونخوا میں 35.3فیصد‘ سندھ میں 32.6فیصد اور پنجاب میں 23.3فیصد ہے۔ضروری ہے کہ حکومت غربت کے خاتمے کو اپنی معاشی حکمتِ عملی کا مرکزی ہدف بنائے۔

زرعی شعبے کی بحالی‘ چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی‘ صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ‘ نوجوانوں کیلئے ہنرمندی اور روزگار کے پروگرام‘ تعلیم اور صحت میں سرمایہ کاری اور سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ معاشی کامیابی کا اصل پیمانہ معاشی اشاریے نہیں بلکہ عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری ہے۔ اگر ملک کی تقریباً ایک تہائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہو تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاشی پالیسیوں کا رخ اب بھی عام آدمی کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔ غربت کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کے لیے فوری‘ جامع اور عوام دوست اقدامات ناگزیر ہیں۔