اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

معاشی کارکردگی

مالی سال 2025-26ء کا اکنامک سروے استحکام کی جانب معیشت کی بتدریج پیش قدمی کا عندیہ دیتا ہے۔ اگرچہ اس سال کے دوران زراعت اور صنعت سمیت کئی شعبے ہدف کے مطابق نمو حاصل نہیں کر سکے۔ صنعتی شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 4.3 فیصد جبکہ نمو 3.5 فیصد رہی۔رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی کی نمو 3.7 فیصد رہی‘ جو سالانہ ہدف 4.2 سے کم مگر گزشتہ چار سال میں سب سے بہتر ہے۔ اس سال جس شعبے کی نمو میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے وہ حکومتی محصولات کا شعبہ ہے۔ رواں سال کے دوران حکومت کے مجموعی ٹیکس ریونیو میں 11.3 فیصد جبکہ صوبائی ٹیکس وصولیوں میں 25.8 فیصد اضافہ ہوا۔ قومی اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا ہے اور فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔

گزشتہ چند سالوں کی سکڑتی معیشت‘ روپے کی بے قدری اور آسمان کو چھوتی مہنگائی کے بعد رواں سال کے اعداد وشمار عبوری معاشی استحکام کی گواہی تو دے رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ استحکام ایک عام پاکستانی کی زندگی بدلنے اور معیشت کو پائیدار نمو دینے کیلئے کافی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ معاشی اشاریوں کی بہتری کے باوجود عوام کی بڑی تعداد تاحال معاشی مشکلات کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔شرحِ مبادلہ میں استحکام اور ترسیلاتِ زر کا (ممکنہ 41 بلین ڈالر کی) ریکارڈ سطح تک پہنچنا اس معاشی نمو کا سب سے بڑا محرک بنا ہے۔ اگرچہ مہنگائی کی شرح میں بھی ریلیف دیکھا گیا اور افراطِ زر کی اوسط شرح 6.7 فیصد رہی لیکن معاشی ماہرین کے مطابق جب تک ملکی معیشت پانچ سے سات فیصد کی مستقل شرحِ نمو حاصل نہیں کرتی‘ تب تک پائیدار استحکام یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ صنعتی شعبہ کسی بھی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ روزگار پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے مگر اس کی نمو ہدف سے کم رہی۔ اگرچہ پیداواری شعبے نے ہدف سے زیادہ نمو حاصل کی مگر گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور سبسڈیز کے خاتمے کی وجہ سے پیداواری لاگت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ مینو فیکچرنگ سیکٹر کے کئی ذیلی شعبے سکڑ گئے ہیں۔

شرحِ سود اور توانائی کے مہنگے ٹیرف کی وجہ سے نجی شعبے کیلئے کاروبار کرنا انتہائی مہنگا ہو چکا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ نجی شعبے کی ترقی 4.5 فیصد ہدف کے مقابل 3.6 فیصد رہی۔ اس میں کوئی دو آرا نہیں کہ ہماری مقامی صنعتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت کی دوڑ میں پیچھے رہ گئی ہیں اور برآمدات اس تیزی سے نہیں بڑھ پا رہیں جسکی معیشت کو ضرورت ہے۔ اقتصادی جائزے کا ایک فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ معاشی نمو کے مثبت اشاریے بھی ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اب بھی خطِ غربت سے نیچے انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ آئی ٹی اور سروسز سیکٹر میں بہتری کے باوجود ملک کے لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان موزوں ملازمتوں سے محروم ہیں۔ ملک کی تقریباً 40 فیصد افرادی قوت کو روزگار دینے والا زرعی شعبہ رواں سال صرف 2.89 فیصد کی شرح سے بڑھ سکا۔ زراعت کی اس سست روی نے دیہی معیشت کو براہِ راست متاثر کیا ہے جسکے اثرات شہروں کی طرف ہجرت اور شہری بیروزگاری کی صورت میں نکل رہے ہیں۔ اقتصادی جائزہ واضح کرتا ہے کہ حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط اور ٹیکس وصولیوں میں ریکارڈ اضافہ کر کے معیشت کو دیوالیہ ہونے کے خطرے سے تو نکال لیا لیکن یہ محض ایک عارضی بندوبست ہے کیونکہ جب تک توانائی کی بلند قیمتوں اور خام مال پر بھاری ٹیکسوں کو کم نہیں کیا جاتا تب تک نجی شعبہ ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی روزگار کے کثیر مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بھی کم کرنا ہوگا تاکہ ایک منصفانہ معاشی نظام قائم ہو سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں