اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

انسانی ترقی پر سرمایہ کاری

قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2026-27ء پر بحث کے دوران ارکانِ اسمبلی اور ماہرینِ معیشت نے زور دیا ہے کہ ملک میں پائیدار معاشی استحکام اور قومی ترقی کیلئے صحت‘ تعلیم‘ سماجی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے شعبوں کو ترجیح دی جائے۔ یہ مطالبہ زمینی حقائق اور مستقبل کے چیلنجز کا ناگزیر تقاضا ہے۔ بلاشبہ ترقی کا اصل پیمانہ صرف مالیاتی اشاریوں میں بہتری نہیں بلکہ یہ ہے کہ شہریوں کو معیاری تعلیم‘ معیاری علاج‘ روزگار کے مواقع ا ور محفوظ ماحول میسر ہو۔ انسانی وسائل ہی کسی معیشت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ بیمار‘ غیر تعلیم یافتہ اور غیر محفوظ آبادی کبھی بھی مضبوط معیشت کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ اس لیے اگر آج صحت‘ تعلیم‘ ہنرمندی اور سماجی تحفظ پر خاطر خواہ سرمایہ کاری نہ کی گئی تو بڑھتی ہوئی آبادی قومی طاقت کے بجائے بڑے سماجی اور معاشی بوجھ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ بھی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

حالیہ برسوں میں سیلاب‘ ہیٹ ویوز‘ خشک سالی اور غیر متوقع بارشیں جانی اور مالی نقصان کا باعث بن چکی ہیں جبکہ آنیوالے برسوں میں موسمیاتی بحران مزید سنگین ہونے کی پیشگوئیاں کی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں موسمیاتی موافقت‘ آبی وسائل کے تحفظ‘ جدید زرعی نظام‘ قدرتی آفات سے بچاؤ اور ماحول دوست انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے۔بصورت دیگر بڑھتی ہوئی آبادی‘ کمزور انسانی ترقی اور سنگین موسمیاتی خطرات مستقبل میں ایسے بحرانوں کو جنم دے سکتے ہیں جن سے نمٹنا کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ثابت ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں