اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

عالمی امن کا روڈ میپ

امریکہ اور ایران میں سوئٹزر لینڈ کے شہر برگن سٹاک میں لیک لوسرن مذاکرات کے پہلے دور میں اتفاق کردہ ساٹھ روزہ روڈ میپ کو عالمی امن کا روڈ میپ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ روڈ میپ کی منظوری اور مذاکرات کی نگرانی کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں فریقین پائیدار اور نتیجہ خیز معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ جب تک فریقین آمنے سامنے بیٹھ کر تبادلہ خیال نہیں کرتے‘تنازعات کے حل کی جانب پیش رفت ممکن نہیں۔ جب بھی دو متحارب ممالک کسی تصفیے کی طرف بڑھتے ہیں تو مذاکرات کا عمل انتہائی صبر آزما اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ اس تناظر میں لیک لوسرن میں مذاکرات کا آغاز اور حتمی معاہدے کیلئے ساٹھ روزہ مدت اگرچہ مختصر معلوم ہوتی ہے لیکن یہ فریقین کے عزم اور تدبر کا امتحان ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کیلئے خام تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل سے متعلق لائسنس کا اجرا اور منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی کا عندیہ اس امر کی غمازی ہے کہ فریقین کے مابین برف کافی حد تک پگھل چکی ہے اور اب وہ ایسے حل کی تلاش میں ہیں جو دونوں فریقوں کیلئے قابلِ قبول ہو اور معاملات کو تکنیکی جزئیات کے ساتھ اختتامی موڑ تک لایا جا سکے۔

تاہم اس سفارتی پیچیدگی میں کئی نزاکتیں بھی ہیں جن سے نمٹنا فریقین کیلئے بڑا چیلنج ہو گا۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اسرائیل اور اس کے حامی جاری مذاکرات کو ناکام بنانے کیلئے کوشاں ہیں اور ان کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ کسی بھی طرح اس امن عمل میں رخنہ ڈالا جا سکے۔ ایسے حالات میں جب نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن اور خطے کے مفادات داؤ پر لگے ہوں‘ دشمن کی سازشوں سے ہر لمحہ ہوشیار رہنا اور ان کا ممکنہ تدارک کرنا فریقین کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس اہم موڑ پر فریقین کو کسی بھی قسم کی غلط فہمیوں‘ افواہوں اور بدمزگی سے بچنے کیلئے باہمی رابطہ کاری کے نظام کو مزید مضبوط اور فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ یقینا انہیں بھی اس کا ادراک ہے اور دونوں ممالک کے مابین ہاٹ لائن کا قیام‘ لبنان میں جنگ بندی کا جائزہ لینے کے لیے ڈی کانفلکشن سیل اور ثالثی عمل کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی پر اتفاق اس کی دلیل ہے کہ مذاکراتی عمل درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ دنیا کی تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جنگ کے ہولناک خدشات کو سفارتکاری کے ذریعے ہی دور کیا جا سکتا ہے اور کسی بھی پیچیدہ تنازع کا پُرامن حل صرف مذاکرات اور بات چیت ہی سے ممکن ہے۔ جنگیں صرف تباہی‘ بربادی اور انسانی جانوں کا زیاں لاتی ہیں جبکہ مذاکراتی میز پر بیٹھ کر کی جانے والی گفتگو نسلوں کو امن اور خوشحالی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔

ثالث ممالک کی جانب سے لیک لوسرن مشترکہ اعلامیہ کا اجرا دراصل اس آفاقی سچائی کا اعادہ ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے گفت وشنید کا راستہ ہی دنیا کو بڑے بڑے بحرانوں سے بچا سکتا ہے۔ اب جبکہ ایک مثبت ماحول میں سفر کا آغاز ہو چکا ہے تو فریقین کے ساتھ عالمی برادری پر بھی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس عمل کی پشت پناہی کرے تاکہ یہ ساٹھ روزہ روڈ میپ ایک دیرپا اور پائیدار امن معاہدے پر منتج ہو سکے۔ ان حالات میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا دورۂ اسلام آباد پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار کے اعتراف کا پختہ ثبوت ہے۔ عالمی سیاست کے اس نازک موڑ پر ایرانی صدر کا پاکستان آنا نہ صرف دونوں برادر ممالک کے مابین تجارتی‘ معاشی اور سرحدی روابط کو ایک نئی جہت دینے کا باعث بنے گا بلکہ یہ پاکستان کے ایک بااعتماد‘ بااثر اور مؤثر ثالث کے وقار کو بھی بین الاقوامی سطح پر نمایاں کرے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں