پاک ایران تجارت
پاکستان اور ایران کے مابین تجارت کوقانونی دائرہ کار میں لانے کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تفتان بارڈر ریلوے سٹیشن کو ’لینڈ کسٹمز سٹیشن‘ قرار دیا ہے۔ اس اقدام سے پڑوسی ممالک کے مابین باضابطہ اور قانونی تجارت کو فروغ ملے گا اور سمگلنگ کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ پاکستان اور ایران کے مابین 900 کلومیٹر طویل سرحد پر تجارتی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ اربوں ڈالر کی اشیا ایران سے پاکستان سمگل کی جاتی ہیں جس سے قومی خزانے کو ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی مد میں اربوں روپے کے ریونیو کا خطیر نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

اب تفتان ریلوے سٹیشن کو کسٹمز سٹیشن کا درجہ دینے سے مال بردار گاڑیوں اور تجارتی سامان کی قانونی طور پر کلیئرنس ممکن ہو سکے گی‘ جس سے نہ صرف حکومت کے ٹیکس ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے بلکہ تاجروں کو ریلوے سے محفوظ‘ تیز رفتار اور قانونی طور پر سامان کی نقل و حمل کی سہولت میسر آئے گی اور سمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تفتان بارڈر پر جدید کسٹمز سکریننگ سسٹم‘ گودام اور ریلوے ٹریکس کی اَپ گریڈیشن کو بھی فوری یقینی بنایا جائے۔ پاک ایران سرحد پر قانونی تجارت کا فروغ بلوچستان میں معاشی استحکام‘ روزگار کے نئے مواقع اور سرحدی تحفظ کا بھی ضامن ثابت ہو سکتا ہے۔