بزدلانہ حملہ، جرأت مندانہ مقابلہ
کراچی میں پاکستان رینجرز کے ایک کیمپ پر دہشت گردی کا گھناؤنا واقعہ ملک میں بھارتی سپانسرڈ انتہا پسندوں کی ایک منظم اور مربوط کارروائی تھی جسے ناکام بناتے ہوئے پاکستان رینجرز نے اپنی پیشہ ورانہ تیاری اور مستعدی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ اس واقعے میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے رینجرز کے تین جوانوں نے جام شہادت نوش کیا مگر دہشت گردوں کو ان کے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ کارروائی کے دوران تین دہشت گرد ہلاک جبکہ ایک زخمی افغان دہشتگرد کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں۔ اس لحاظ سے بھی یہ ایک منظم حملے کو ناکام بنانے کی قابل ذکر کارروائی ہے۔ دہشت گردی کے واقعات پچھلے کئی سال سے ملکی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ثابت ہو رہے ہیں۔ دہشت گردی کے ان سبھی واقعات کی کڑیاں افغانستان سے ملتی ہیں۔ دہشت گردی کی تاریں نئی دہلی سے ہلائی جاتی ہیں‘ منصوبہ بندی افغانستان میں ہوتی ہے‘ اسلحہ بھی وہیں کا استعمال ہوتا ہے اور فتنہ الخوارج کے ساتھ منسلک عناصر اس کام میں بھاڑے کے ٹٹو کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس صورتحال نے پچھلے کئی برسوں کے دوران خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کے شدید خطرات پیدا کئے۔

دوسری جانب بلوچستان میں دہشت گردی کی الگ نوعیت ہے‘ مگر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے شدت پسندوں میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ دونوں کو پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین دستیاب ہے اور دہشتگرادانہ واقعات کیلئے ہر طرح سے اعانت سرحد پار سے ملتی ہے۔ اس صورتحال کے بارے پاکستان کابل رجیم کو ہر سطح پر آگاہ کرتا آیا ہے مگر اس کا خاطر خواہ فائدہ نظر نہیں آیا۔ افغانستان کی جانب سے ان شکایات پر توجہ دینے کے بجائے غیر سنجیدگی کا رویہ اپنایا گیا‘ مجبوراً پاکستان کو وہ قدم اٹھانا پڑا جو اس سے پہلے بوجوہ مؤخر ہوتا چلا آیا کیونکہ پاکستان اپنے ہمسائے سے مکمل طور پر مایوس نہیں ہوا تھا‘ اس امید کا شائبہ باقی تھا کہ افغان پاکستان کے احسانات کی قدر و قیمت جانیں گے‘ مگر جب ان شکایات کا عملاً کوئی مثبت نتیجہ نکلتا نظر نہ آیا بلکہ سفارتی رکھ رکھاؤ سے عاری ٹولے نے الٹا ان شکایات کو پاکستان کی کمزوری خیال کیا تو پاکستان کو بالآخر سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑا۔
یہ سلسلہ اس سال فروری کے آخر میں شروع ہوا اور اس کا یہ نتیجہ دیکھنے میں آیا کہ پچھلے برسوں کی نسبت اس سال دہشت گردی کے واقعات کم ہوئے۔ آپریشن غضب للحق کے بعد مارچ میں دہشت گردی سے اموات میں 35 فیصد کمی آئی جبکہ اپریل میں دہشت گردی کے واقعات میں 42 فیصد اور اموات‘ جو مارچ میں 106 تھیں‘ اپریل میں 60 ہو ئیں۔ گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی کی جو لہر جاری تھی رواں برس سے سکیورٹی اداوں کی جانب سے اس پر کامیابی سے قابو پانے کی کارروائیوں کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے ملک کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کی کوششیں ان کی مایوسی کی علامت ہیں۔ آپریشن غضب للحق کے بعد سے جب دہشت گردوں نے اپنے محفوظ ٹھکانوں کی بربادی کو ملاحظہ کیا تو پاکستان کے اربن سنٹرز میں دہشت گردی کے واقعات سامنے آنا شروع ہو گئے۔ یہ جہاں دہشت گردوں کی واضح شکست اور ناکامی کا ثبوت ہے وہیں یہ ملک میں سکیورٹی کے حوالے سے حساسیت کو بھی واضح کرتا ہے۔
کراچی میں رینجرز کیمپ پر حالیہ حملہ بھی اسی طرح کی کارروائی معلوم ہوتا ہے۔ مگر رینجرز نے اپنی جانوں پر کھیل کر حملہ آروں کو ختم کیا اور ان میں سے بعض کو زندہ دبوچ لیا۔ اس کارروائی سے سکیورٹی اداروں کی تیاری اور مستعدی کی دھاک دہشت گردوں پر بیٹھ جائے گی۔ دہشت گردی کے واقعات میں کمی آپریشن غضب للحق کی کامیابی کا ثبوت ہے تاہم اندرون ملک سکیورٹی کے معاملات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے‘ تاکہ امن وامان کی ضمانت کو یقینی بنایا جا سکے۔