اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

زلزلے اور خطرات

ملک عزیز میں حالیہ دنوں پے درپے چھ زلزلے تشویش کا سبب بنے۔ زمین کی لرزش سے نہ صرف عوام میں خوف وہراس پھیلا بلکہ اس نے ملک کے تعمیراتی معیار کی جانب بھی توجہ دلائی۔ ماہرینِ ارضیات کے مطابق ان زلزلوں کا سبب وینزویلا میں آنے والا تباہ کن زلزلہ ہے۔ چونکہ زمین کی ارضیاتی پلیٹیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں لہٰذا ایک جگہ کی غیر معمولی ہلچل دور دراز کے خطوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ وجہ چاہے کچھ بھی ہو‘ ان زلزلوں نے ہمارے شہری انفراسٹرکچر کی کمزوری کو ایک خطرے کے طور پر اجاگر کیا ہے ۔ پاکستان جغرافیائی طور پر فعال اور خطرناک فالٹ لائنز پر واقع ہے‘ جہاں کسی بھی وقت بڑا زلزلہ آنے کا اندیشہ موجود ہے۔ اس کے باوجود ملک میں تعمیرات کو زلزلہ پروف بنانے کا کوئی مؤثر قانون موجود نہیں ۔

نجی تعمیرات کا حال تو نہایت ابتر ہے جہاں زلزلے کے خطرات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی اور بغیر کسی مستند زمینی جانچ کے کثیر المنزلہ عمارتیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلے‘ جس میں 74 ہزار سے زائد فراد جاں بحق ہوئے تھے‘ کے بعد تعمیراتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور زلزلہ پروف بنانے کے دعوے کیے گئے تھے مگر عملاً وہ تمام دعوے اور عزائم طاقِ نسیاں پر دھرے رہ گئے۔ حالیہ زلزلے ہمارے لیے ایک انتباہ ہیں۔ اگر اب بھی تعمیراتی قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے ہر عمارت کو زلزلہ پروف بنانا لازمی قرار نہ دیا گیا تو مستقبل میں یہ زلزلے کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں