اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

گیس سلنڈر حادثات

منگل کے روز ناران میں ایک ہوٹل میں گیس سلنڈر پھٹنے سے تین سیاح جاں بحق ہو گئے‘ جبکہ اسی روز اسلام آباد کے جی ایٹ مرکز میں بھی ایک ہوٹل میں سلنڈر پھٹنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس سے قبل 10 جون کو کراچی‘ 12 جون کو راولپنڈی اور 21 جون کو بہاولنگر میں بھی سلنڈر دھماکوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 19 افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعات اس حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ ملک میں گیس سلنڈروں کی تیاری‘ فروخت‘ ذخیرہ اور استعمال کے حوالے سے حفاظتی نظام مؤثر نہیں اور نہ ہی متعلقہ قوانین پر سنجیدگی سے عمل کرایا جا رہا ہے۔ ہر چند روز بعد ملک کے کسی نہ کسی حصے سے سلنڈر پھٹنے کی خبر آتی ہے‘ قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں‘ املاک کو نقصان پہنچتا ہے اور حکومت کی طرف سے حسبِ روایت تحقیقات اور کارروائی کی یقین دہانیاں کرا دی جاتی ہیں لیکن عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آتے۔

حقیقت یہ ہے کہ بیشتر سانحات غیر معیاری سلنڈروں‘ حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی اور کمزور انتظامی نظام کا نتیجہ ہیں۔ گلی محلوں میں قائم غیرقانونی ایل پی جی فلنگ پوائنٹس بھی شہری آبادی کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔اگر اب بھی سنجیدہ‘ مستقل اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو گیس سلنڈر شہریوں کی سہولت کے بجائے خاموش بم بن کر مزید قیمتی جانیں نگلتے رہیں گے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں