اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دفاعِ وطن کا غیر متزلزل عزم

افغان سرحدی علاقوں میں پاکستان کی کارروائی پر بھارتی ردِعمل کو مدلل انداز میں رد کرتے ہوئے دفترِ خارجہ نے نہ صرف بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا ہے بلکہ کابل انتظامیہ کو بھی اس کے بین الاقوامی وعدوں کی یاددہانی کرائی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایک ملک جو ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہو اسکی جانب سے بیان آنا مضحکہ خیز ہے۔ اگر افغان سرزمین سے پاکستان کیلئے دہشت گردی کے خطرات کی بات کی جائے تو پاکستان نے اس معاملے کو کبھی زبانی دعوؤں کی حد تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس سنجیدہ خطرے کے خلاف ہمیشہ متعلقہ عالمی فورمز پرآواز بلند کی ہے۔ اقوامِ متحدہ‘ او آئی سی اور شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارمز پر مسلسل اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں خطے کی سکیورٹی اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک کیلئے بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ پاکستان کے ان خدشات کی تصدیق عالمی برادری اور معتبر بین الاقوامی ادارے بھی کر چکے ہیں۔

امریکی اور روسی انٹیلی جنس اداروں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی متعدد رپورٹس اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ افغانستان بین الاقوامی دہشت گردی کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ سلامتی کونسل کی مختلف رپورٹس میں واضح طور پر کہا گیا کہ ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہ نہ صرف افغان سرزمین پر آزادانہ نقل وحرکت کر رہے ہیں بلکہ انہیں جدید ترین حربی ہتھیار بھی دستیاب ہیں جو امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد وہاں رہ گئے تھے۔ یہ رپورٹس پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہیں کہ افغان سرزمین سے ہونیوالی دہشت گردی محض پاکستان کا معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی خطرہ ہے۔ پاکستان نے اس حوالے سے ناقابلِ تردید شواہد پر مبنی ایک  ڈوزیئر بھی تیار کیا جو دنیا کے اہم ممالک اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ افغان عبوری حکومت کے حوالے بھی کیا گیا۔ اس ڈوزیئر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ ان کی قیادت کی افغانستان میں موجودگی‘ تربیتی کیمپوں کی لوکیشنز اور پاکستان کے اندر ہونے والے متعدد خودکش حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد موجود تھے۔ پاکستان کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ پاکستان الزام تراشی نہیں بلکہ حقائق کی بنیاد پر مسئلے کو سفارتی سطح پر حل کرنے کا قائل ہے۔

تاہم ٹھوس شواہد کی فراہمی کے باوجود جب افغان عبوری حکومت کی جانب سے سرحد پار دہشت گردوں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو پاکستان نے تمام عالمی ضوابط اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے افغان سرحدی علاقوں میں قائم دہشت گردی کے اڈوں کے خلاف کارروائی کی۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 خود مختار ریاستوں کو یہ حق دیتا ہے کہ اگر ان کی سلامتی کو بیرونی جارحیت یا سرحد پار سے خطرہ لاحق ہو تو وہ اپنے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدام کر سکتی ہیں۔ پاکستان کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے عین مطابق ہے اور ایک واضح پیغام بھی کہ اگر افغان عبوری حکومت دوحہ معاہدے کی پاسداری نہیں کرتی تو پاکستان اپنے عوام کے تحفظ اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے تمام ممکنہ اور ضروری دفاعی اقدامات کا پورا حق رکھتا ہے۔ اس تمام صورتحال میں بھارت کا واویلا دراصل اسکے مذموم ارادوں کی ناکامی اور بوکھلاہٹ کا عکاس ہے۔ پاکستان کیخلاف بھارتی پروپیگنڈا اور کابل کیساتھ اسکی غیر معمولی ہمدردی یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ نئی دہلی افغانستان کو پاکستان کے خلاف ایک پراکسی کے طور پر دیکھتا ہے۔

تاہم دفترِ خارجہ کا دو ٹوک بیان اس امر کا مظہر ہے کہ پاکستان اب دہشتگردی کے معاملے پر مصلحت پسندی کا شکار نہیں ہو گا۔ اگر افغانستان خطے میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھرنا چاہتا ہے تو اسے بھارت جیسے فتنہ انگیز ملک کی کٹھ پتلی بننے کے بجائے دوحہ معاہدے پر عمل کرنا ہو گا اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تسلی بخش سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں