غفلت اور حادثات
سوات کی سیف اللہ جھیل میں کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد کی المناک موت ہمارے ہاں سیاحتی نظام میں سنگین انتظامی کمزوریوں اور حفاظتی غفلت کا واضح ثبوت ہے۔ مبینہ طور پر اس بد قسمت کشتی میں سوار سیاحوں نے لائف جیکٹیں نہیں پہن رکھی تھیں۔کشتی کے الٹنے کی وجہ جو بھی ہو مگر سیاحوں نے اگر معیاری لائف جیکٹیں پہنی ہوتیں تو اس حادثے سے بچنے کے امکانات کئی گنا زیادہ ہوتے۔ان قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کی ذمہ داری سیاحوں کو سروسز مہیا کرنیوالوں پر عائد ہوتی ہے مگر اصل ذمہ داری علاقے کی انتظامیہ کی بنتی ہے جنہیں اپنی حدود میں ان قواعد پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوتا ہے‘ مگر مقامی انتظامیہ کی جانب سے ایسے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اب سنتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے اس حادثے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کی ہے جو کشتی آپریشن‘ اجازت نامے‘ حفاظتی تقاضوں‘ کشتی چلانیوالے کی اہلیت اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ مگر نگرانی‘ معائنے اور احتساب کا یہی نظام حادثے سے پہلے موجود ہوتا تواس حادثے کی نوبت ہی نہ آتی ۔ یہ سانحہ ایک انتباہ ہے کہ حفاظتی انتظامات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو ایسے حادثات مستقبل میں بھی رونما ہوتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقتی کارروائیوں کے بجائے سیاحتی مقامات پر جامع حفاظتی انتظامات یقینی بنائے۔