اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پاک ترکیہ تجارت اور ہم آہنگی

وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے دورے کے دوران استنبول میں صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور ترکیہ میں باہمی تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا اور دو طرفہ تجارت‘ اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان  مذہبی‘ تاریخی اور ثقافتی رشتے گہرے ہیں مگر ان مضبوط تعلقات کا وہ معاشی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکا جس کی دونوں ملکوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت گزشتہ کئی برسوں سے اپنی حقیقی استعداد سے بہت کم رہی ہے۔ دونوں ملکوں کی باہمی تجارت کا موجودہ حجم ڈیڑھ ارب ڈالر کے قریب ہے‘ مگر اس میں پانچ ارب ڈالر تک نمو کی صلاحیت پائی جاتی ہے؛ چنانچہ دونوں ممالک نے کئی مواقع پر تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم ظاہر کیا لیکن عملی طور پر تجارتی حجم اس ہدف سے خاصا دور ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں محدود تجارتی روابط‘ بعض اشیا پر محصولات کی بلند شرح‘ بینکنگ سہولتوں کی کمی اور نجی شعبے کے درمیان محدود روابط شامل ہیں۔ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے اقدامات کئے جائیں تو پاک ترکیہ تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

پاکستان کے پاس زرعی پیداوار‘ معدنی وسائل‘ نوجوان افرادی قوت‘ ٹیکسٹائل‘ آئی ٹی سروسز اور اقتصادی راہداری کی صورت میں ایسی صلاحیت موجود ہے جو ترک سرمایہ کاروں کیلئے پُرکشش ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنی اپنی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور مشترکہ سرمایہ کاری کے ذریعے نئی منڈیاں بھی حاصل کی جا سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ‘ روزگار کے نئے مواقع اور صنعتی ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ سیاحت بھی ایک ایسا شعبہ ہے جس میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ ترکیہ دنیا کے کامیاب ترین سیاحتی ممالک میں شمار ہوتا ہے ‘ ترکیہ کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان میں سیاحتی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جاسکتا ہے۔ زرعی شعبے میں بھی اشتراک کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ترکیہ جدید زرعی مشینری‘ فوڈ پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن میں مہارت رکھتا ہے اور پاکستان میں ان شعبوں میں کام کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ہمارا زرعی شعبہ مشینری کی کمیابی اور جدید رجحانات سے ناواقفیت اور ویلیو ایڈیشن کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے نقصان اٹھاتا ہے۔

ترکیہ کے تجربے سے سیکھ کر اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے پاکستانی زرعی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی مل سکتی ہے۔ مگر ان امکانات سے استفادے کیلئے سرمایہ کار دوست ماحول‘ شفاف پالیسیاں‘ ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور ترکیہ میں اعتماد‘ تاریخی دوستی اورہم آہنگی اس مقصد کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کرسکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اعتماد کو تجارت‘ سرمایہ کاری‘ صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے تاکہ دونوں برادر ممالک مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کر سکیں۔ پاکستان اور ترکیہ میں اعتماد اور ہم آہنگی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔ دونوں ممالک مسلم دنیا کی اہم دفاعی قوت ہیں اور عالم اسلام میں امن‘ استحکام اور خوشحالی کی خواہش دونوں جانب پائی جاتی ہے۔

ایران امریکہ امن مذاکرات میں دونوں ملکوں میں قریبی ہم آہنگی رہی جس کا ذکر گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور صدر اردوان کی پریس کانفرنس میں بھی کئی بار آیا۔ ترکیہ اور پاکستان میں یہ ہم آہنگی خطے میں پائیدار امن کے مستقبل کی اہم ضرورت ہے اور اس کو مضبوط بنانے کیلئے دونوں ملکوں میں معاشی مراسم مزید گہرے ہونے چاہئیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں