اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

حیران کن ٹیکس نظام

ایف بی آر کے اعداد و شمار نے ایک بار پھر ملکی ٹیکس نظام کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026ء میں تنخواہ دار طبقے سے 633 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا جبکہ ریٹیلرز‘ برآمد کنندگان اور رئیل اسٹیٹ جیسے بڑے تجارتی شعبوں سے 435 ارب روپے۔ حقیقت یہ ہے کہ تنخواہ دار طبقہ ٹیکس وصولی کا آسان ترین ذریعہ ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں سے ٹیکس براہِ راست کٹتا ہے اور یہ رقم بیٹھے بٹھائے ایف بی آر کے پاس پہنچ جاتی ہے‘ دوسری جانب وہ شعبے جہاں ماہانہ اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے ایف بی آر اُن سے اتنا بھی ٹیکس وصول نہیں کر پاتا کہ تنخواہ دار طبقے کے برابر آ جائیں۔ ملک کو اس وقت مالیاتی خسارے‘ بڑھتے ہوئے قرضوں اور محدود وسائل جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

ایسے حالات میں ٹیکس چوری اور غیر دستاویزی معیشت مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔ اگر ریٹیلرز‘ بڑے تاجروں‘ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار اور دیگر زیادہ آمدن والے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کر لیا جائے تو نہ صرف قومی محصولات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے بلکہ تنخواہ دار طبقے کو بار بار قربانی کا بکرا بنانے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔ ایک مضبوط معیشت اسی وقت وجود میں آتی ہے جب ٹیکس کا بوجھ سب پر انکی مالی استطاعت کے مطابق یکساں تقسیم ہو۔ تنخواہ دار طبقہ اپنی ذمہ داری مسلسل نبھا رہا ہے اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیکس انصاف کو یقینی بنائے۔ جو لوگ اور شعبے زیادہ کماتے ہیں انہیں بھی قومی خزانے میں اسی تناسب سے اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں