اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مون سون، حکومتی تیاریوں کا امتحان

ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے جو انسانی جانوں‘ املاک اور انفراسٹرکچر کیلئے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق 26 جون سے 22 جولائی تک بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں 72افراد جاں بحق اور 187 زخمی ہو چکے ہیں۔ بدھ کے روز لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ہونیوالی بارش 17 قیمتی جانیں نگل گئی جبکہ خیبرپختونخوا میں بھی بارشوں اور ان سے جڑے حادثات کے باعث 18افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ہماری تیاری اور شہری انتظامات اب بھی مطلوبہ معیار سے بہت دور ہیں۔ حکومت پنجاب کا دعویٰ تھا کہ مون سون سے قبل تمام پیشگی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں لیکن مون سون کی پہلی موسلا دھار بارش نے ہی ان دعوؤں کی حقیقت آشکار کر دی۔

لاہور‘ راولپنڈی‘ گوجرانوالہ‘ گجرات اور سیالکوٹ جیسے بڑے شہروں میں سیوریج کے ناقص نظام نے بارش کے پانی کو سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں جمع کر دیا۔ گزشتہ برس بھی یہ شہر اربن فلڈنگ کا شکار ہوئے تھے مگر اسکے باوجود مستقل نوعیت کے اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے۔ضروری ہے کہ صوبائی حکومتیں  صرف بیانات اور دعوؤں تک محدود نہ رہیں بلکہ مؤثر اور پیشگی حکمت عملی اختیار کریں۔ آنیوالے دنوں میں اربن فلڈنگ سے بچنے کیلئے سیوریج لائنوں کی بروقت صفائی اور ہائی رِسک نشیبی علاقوں کیلئے قبل از وقت حفاظتی منصوبہ بندی یقینی بنائی جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں