اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بحری تجارت کے تحفظ کا عزم

عالمی جغرافیائی سیاسی منظرنامے میں بحری گزرگاہیں خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک توانائی کی ترسیل‘ اشیائے خور ونوش کی رسد اور تجارتی سامان کی نقل وحمل کا انحصار بحری گزرگاہوں ہی پر ہے۔ آج جب مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے‘ بحری تجارت کے تقاضے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تناؤ کے باعث متعدد ممالک نے تجارتی بحری روٹس تبدیل کر لیے ہیں۔ پاکستان بھی اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں واقع سعودی بندرگاہ ینبع سے تیل درآمد کر رہا ہے۔ تاہم یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی اور سعودی بندرگاہوں کا رخ کرنیوالے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں نے نہ صرف خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا بلکہ عالمی تجارت کے تسلسل کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ امر انتہائی تشویش ناک ہے کہ علاقائی تنازعات کی آگ میں تجارتی جہاز رانی کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کا چارٹر اور بین الاقوامی بحری قوانین اس بات کی واضح اور دوٹوک ضمانت دیتے ہیں کہ کسی بھی ملک یا گروہ کو عالمی پانیوں میں بحری تجارت کو نقصان پہنچانے‘ رکاوٹیں کھڑی کرنے یا تجارتی جہازوں کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عالمی پانیوں میں امن و امان کو سبوتاژ کرنا دراصل براہِ راست عالمی امن پر حملہ ہے جس کے اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے حوثی ملیشیا سمیت عالمی برادری پر دو ٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ تصور کیا جائے گا اور پاکستان کے سمندری مفادات کیخلاف جارجانہ کارروائی ہرگز برداشت نہیں ہوگی۔ دفتر خارجہ نے سعودی عرب کی سلامتی‘ خود مختاری، علاقائی سالمیت کیلئے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔ باب المندب اور بحیرہ احمر نہ صرف دنیا میں توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے بلکہ یہ ایشیا اور یورپ کے درمیان سب سے مختصر راستہ فراہم کرتا ہے۔

پاکستان کیلئے توانائی کی بلاتعطل فراہمی اور بحری تجارت کا تحفظ اسکی معیشت کی بقا کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ عالمی رسد اور توانائی کی ترسیل کے راستوں کو غیر محفوظ بنانا پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر براہ راست کاری ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ حوثی ملیشیا کو یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ خطے میں سمندری سکیورٹی کو یقینی بنانے اور بحری قزاقی‘ دہشتگردی اور سمگلنگ کی روک تھام کیلئے پاکستان نے ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ اس تناظر میں برطانیہ‘ امریکہ‘ ترکیہ‘ اردن اور پاکستان سمیت 47 ملکوں کی مشترکہ بحری فورس ’’سی ٹی ایف151‘‘ کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے‘ جو باب المندب اور بحیرہ عرب سمیت اس خطے میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔ پاکستان متعدد بار اس کثیرالقومی میری ٹائم ٹاسک فورس کی کمانڈ کر چکا ہے‘ جو اس بات کا غماز ہے کہ خطے میں امن‘ قانون کی بالادستی اور آزادانہ بحری تجارت کے تحفظ کیلئے پاکستان ہر حد تک جانے کو پُرعزم ہے۔

اگرچہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے امن‘ اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام اور سفارتکاری کے فروغ پر مبنی رہا ہے‘ تاہم عالمی پانیوں کے امن کو کسی گروہ کی من مانی یا دھونس کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کا حل طاقت کے اندھے استعمال یا تجارتی گزرگاہوں کو یرغمال بنانے میں نہیں بلکہ بامقصد بات چیت‘ سفارتکاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام میں مضمر ہے۔ طاقت کے زور پر بحری راستوں کی ناکہ بندی یا بحری جہازوں پر حملے کی روش خطے کو ایک ایسی خطرناک کھائی کی طرف دھکیل سکتی ہے جسکے نتائج پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں