اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ادویات بھی مہنگی

ادویہ ساز کمپنیوں کی طرف سے ادویات کی قیمتوں میں 70 فیصد سے 1600 فیصد اضافے کی خبریں تشویشناک ہیں ۔ اگرچہ ڈریپ کی جانب سے دوائوں کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ کرنے والی 37 فارما کمپنیوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں مگر یہ معاملہ اب فوری حکومتی توجہ اور ڈی ریگولیشن پالیسی پر نظر ثانی کا متقاضی ہے۔ عالمی حالات اور ملکی معاشی صورتحال کو جواز بنا کر ادویہ ساز کمپنیاں ہر چند ماہ بعد قیمتوں میں من چاہا اضافہ کر لیتی ہیں اور حکومت ڈی ریگولیشن پالیسی کے تحت محض تماشا دیکھتی ہے۔ فروری 2024ء کی ادویات ڈی ریگولیٹ پالیسی کے تحت حکومت صرف جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کے تعین کا اختیار رکھتی ہے جبکہ باقی ادویات کی قیمتیں فارماسیوٹیکل کمپنیاں اپنی مرضی سے مقرر کر سکتی ہیں۔

یہ پالیسی مقابلے کی فضا پیدا کرکے سستی اور معیاری ادویات کی فراہمی کیلئے تشکیل دی گئی تھی مگر اسے منافع خوری کا نیا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب ہر مہینے ہی ادویہ کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں اور بعض ادویات کی قیمتوں میں 1600 فیصد سے بھی زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر حکومت نے اب بھی اس معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے عملی اقدامات نہ کیے تو ملک میں صحت کی سہولتیں مزید مہنگی اور ناقابلِ رسا ہو جائیں گی اور عنقریب ایک نیا طبی بحران ہمارا منتظر ہو سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں