بارشیں اور حادثات
حالیہ بارشوں نے کئی علاقوں میں شدید تباہی مچا ئی ہے۔ گزشتہ روز مزید دس افراد بارشوں سے ہونے والے حادثات میں جاں بحق ہو گئے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں مون سون کی طوفانی بارشوں سے آنے والے سیلابی ریلوں‘ لینڈ سلائیڈنگ‘ مکانات کے گرنے اور دیگر حادثات میں اب تک 107 افراد جاں بحق اور تقریباً 350 زخمی ہو چکے ہیں۔ جانی نقصان کے حوالے سے خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 55 افراد جاں بحق ہوئے۔ پنجاب میں 36 اموات ہو چکی ہیں۔ بارشوں سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے اور لوگوں کی املاک اور مویشی بھی سیلابی ریلوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ مون سون بارشوں کی وجہ سے ملک کے اکثر ندی‘ نالے اور دریا بھی بپھرے ہوئے ہیں جبکہ کئی علاقے سیلاب کے خدشات کی زد میں ہیں۔

پاکستان میں ہر سال مون سون کی بارشیں تباہی کا نیا باب ثابت ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جاتے جس کے سبب شہریوں کو جان و مال کا نقصان بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ ابھی مون سون کا تیسرا سپیل ہے جبکہ موسمیاتی ماہرین ستمبر کے وسط تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی پیش گوئی کر رہے ہیں‘ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کے ساتھ ساتھ مزید بارشوں کے پیش نظر نالوں کی بروقت صفائی اور سیوریج کی خامیاں دور کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات جلد مکمل کیے جائیں۔