امن کیلئے موقع کی تلاش
امریکہ اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف حملوں میں توقف کی خبر خوش آئند ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو روز میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ عالمی میڈیا کی خبروں کے مطابق امریکی صدر نے ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں کو مزید وسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر نے ہر سطح پر بات چیت جاری ہونے کا عندیہ دیا ہے جبکہ کیتھولک مسیحیوں کے پیشوا پوپ لیو بھی مشرق وسطیٰ میں قیام امن پر زور دے رہے ہیں۔ ایران پر امریکی حملے رکنے کی وجہ خواہ پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخیرے میں کمی ہے یا خلیج فارس میں امریکہ کے عرب اتحادیوں کی دوری‘ یہ اقدام متحارب فریقین کیلئے امن کی جانب بڑھنے کا موقع پیدا کر سکتا ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پائیدار امن کیلئے تیار کی گئی تھی اور یہ امید تھی کہ امریکہ اور ایران اس پر بنیاد پر اپنے نصف صدی کے قصے کو سلجھالیں گے مگر بدقسمتی سے فریقین نے امن کے بجائے ایک بار پھر جنگ کا انتخاب کیا۔ ان حملوں میں دونوں جانب جانی اور مالی نقصان ہوا مگر اس کا سب سے زیادہ نقصان امن کی کوششوں کو پہنچا۔ اب جبکہ حملے رکنے اور مذاکرات کی بحالی کیلئے سفارتی کوششوں کی خبریں ہیں تو ضروری ہے کہ فریقین جنگ بندی کیلئے سنجیدگی دکھائیں۔ خلیج کی جنگوں کے عالمی معیشت پر شدید اثرات ہوتے ہیں۔

اس کا فوری اثر تیل کی قیمتوں پر سامنے آتا ہے۔ اس وقت عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب ہیں۔ دو ہفتے قبل جب جھڑپوں کا یہ سلسلہ شروع ہوا تیل کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل کے قریب تھی۔ تیل کی قیمتوں سے بڑھ کر اس صورتحال کے منفی اثرات عالمی تجارتی تحفظ اور اعتماد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز جس کا کنٹرول امریکہ اور ایران میں تنازعے کی اصل وجہ بنا ہوا ہے‘ دنیا میں توانائی کی اہم ترین گزر گاہ ہے۔ عالمی تجار ت کیلئے شاہ رگ کی حیثیت رکھنے والے ایسے سمندری راستوں کو ہر طرح کے تنازعات سے محفوظ ہونا چاہیے‘ یہی عالمی مفاد میں ہے۔28 فروری سے پہلے آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی محفوظ آبی راستہ تھا‘ مگر امریکہ کے ایران پر حملے نے اس عالمی حیثیت کی گزرگاہ کو تنازعے کا مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایسا نہیں لگتا کہ امریکہ میں جنگ کی حکمت عملی طے کرنے والے دماغوں نے ان خطرات کا پیشگی اندازہ کیا تھا۔ اس تنازعے کو طول دینا متحارب ممالک کیلئے بھی نقصاندہ ہے۔ ایران کو انفراسٹرکچر کی تباہی کا سامنا ہے جبکہ امریکہ کے اسلحے کے ذخائر انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں‘ مگر دنیا اس ایران امریکہ تنازعے کے بھیانک اثرات سے کہیں زیادہ متاثر ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں‘ مہنگائی اور عالمی بے اعتمادی اسی کا نتیجہ ہے۔
آبنائے ہرمز کی طرح بحیرہ احمر کے دہانے پر باب المندب میں پیدا ہونے والا تنازع بھی تشویش کا باعث ہے۔ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف برمحل اور اصولی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں مسلم ممالک کو ایک مشترکہ اور سنگین خطرے کا سامنا ہے۔ یہ حالات مسلم ریاستوں میں باہمی تعلق مضبوط کرنے اور ماضی کی کدورتوں کو بھلاکر ایک دوسرے کے قریب ہونے کا تقاضا کرتے ہیں‘ نہ کہ آپس میں ٹکرا کر اپنی قوت کو ضائع کرنے اور خود کو مزید کمزور کرنے کا۔ ان حالات میں او آئی سی اور خلیجی ممالک کی تنظیم جی سی سی کو بھی کچھ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی اجلاس‘ ملاقاتوں کا کوئی سلسلہ اور رابطہ کاری کی کوئی کوشش خطے کی مسلم ریاستوں کوآپس میں الجھنے کے بجائے مستقبل کی جانب دیکھنے اور مل کر چلنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ خلیجی ممالک کے پاس ترقی‘ استحکام اور مستقبل کے خطرات سے خود کو بچانے کے وسائل موجود ہیں۔ ضروری ہے کہ ان وسائل سے استفادہ کریں اور ایک دوسرے کیلئے اچھے ہمسایے اور حقیقی معنوں میں اسلامی برادر ہونے کا ثبوت فراہم کریں۔