برآمدات، عملی اقدامات کی ضرورت
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی نے جولائی کی ڈویلپمنٹ آؤٹ لُک کے اجرا کے موقع پر کہا ہے کہ پاکستان کو چھ فیصد معاشی شرح نمو کے حصول کیلئے 2035ء تک برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانا ہو گا۔وزیر منصوبہ بندی بجا کہتے ہیں ‘ برآمدات معاشی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں موجود معاشی حالات اس بلند ہدف کے حصول کیلئے سازگار ہیں؟ مالی سال 2025-26ء کے دوران حکومت نے برآمدات کا ہدف 35ارب 28کروڑ ڈالر مقرر کیا تھا لیکن برآمدات بمشکل 30ارب ڈالر کی ہو سکیں ۔ یہ رفتار اس منزل کے مقابلے میں انتہائی سست ہے جس کا تعین 2035ء کیلئے کیا جا رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ملک کا برآمدی شعبہ متعدد مسائل میں گھرا ہوا ہے۔

سب سے بڑا مسئلہ توانائی کی بلند قیمتیں ہیں جو پیداواری لاگت میں اضافہ کرتی ہیں جس کے نتیجے میں پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں حریف ممالک کے مقابلے میں مہنگی پڑتی ہیں۔ دوسری جانب پالیسیوں میں بار بار تبدیلی‘ صنعت اور تجارت سے متعلق غیر یقینی ماحول اور پیچیدہ و بھاری ٹیکس نظام سرمایہ کار اور برآمد کنندہ دونوں کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان کیلئے چھ فیصد پائیدار شرح نمو اور 100 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف یقینا ناممکن نہیں لیکن اس کیلئے بیانات سے زیادہ اصلاحات‘پالیسی تسلسل اور عملی اقدامات درکار ہیں۔