اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

گڈ گورننس اورنئے صوبے

ملک میں گڈگورننس اور نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کا مطالبہ زور پکڑ چکا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں اس حوالے سے سیاسی‘ عوامی اور رائے ساز حلقوں میں تواتر سے گفتگو ہوئی اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت و اہمیت کا مقدمہ مؤثر طور پرسامنے آیا۔ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت قومی سطح پر شاید ہی کسی دوسرے تصور کو اتنی توجہ حاصل ہو ئی ہو جتنی کہ نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے تصور کو حاصل ہے۔ عوام اور سیاسی حلقوں کو اس حقیقت کا اچھی طرح اندازہ ہے کہ ملک کے انتظامی خدوخال کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ملکِ عزیز کے صوبوں کا غیر معمولی حجم اچھی حکمرانی کیلئے ایک بنیادی رکاوٹ رہا ہے ۔ حکمرانی جتنی عوام کے قریب ہو گی اتنی ہی مؤثر اور نتیجہ خیز ہو گی لیکن ہمارے ہاں چاروں صو بوں کا بے کراں پھیلاؤ اس میں مانع ہے‘ جو حجم میں دنیا کے ڈیڑھ سو سے زائد ممالک سے بڑے ہیں۔ صوبوں کے غیر معمولی پھیلاؤ کی وجہ سے حکمرانی کا نظام اپنی بساط سے کہیں زیادہ پھیل چکا ہے اور اسکے نتیجے میں مؤثر حکمرانی ناممکن ہو چکی ہے۔

ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے اورعقل سلیم کا تقاضا بھی یہی ہے کہ بڑی ذمہ داریوں کی بہتر ادائیگی کیلئے انہیں تقسیم کیا جاتا ہے‘ مگر ہماری سیاسی جماعتیں اس حقیقت کو سمجھنے میں غلط فہمی کا شکار رہیں‘ اختیارات اور وسائل کو اپنے قبضہ میں رکھنے پر اصرار کیا اور تقسیم اختیارات پر آمادہ نہیں ہوئیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں اور عوام میں ایک فاصلہ رہا۔ اختیارات اور وسائل پر قبضے کی ضد نے سیاسی جماعتوں کو عوامی وابستگی سے محروم رکھا۔سیاسی جماعتیں نے صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر چھوٹے یونٹس میں تقسیم کردیا ہوتا اور ہر یونٹ اپنے آپ میں ایک صوبے کی طرح وسائل اور اختیارات کا حامل قرار پاتا تو یہ مسائل نہ ہوتے۔ عوامی ‘معاشی اور سماجی تقاضوں کوالتوا میں ڈال کر سیاسی جماعتوں نے آبادی اور رقبے پر اپنی سیاسی پکڑ برقرار رکھی مگر بنیادی مطالبات کو ہمیشہ کیلئے سرد خانے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔انتظامی تقسیم اور وسائل کی منصفانہ منتقلی بھی اسی قسم کا جائز اور منطقی مطالبہ ہے۔ اس سلسلے میں لیت و لعل حکمرانی کے ابہام ‘ عوامی محرومیوں میں اضافے اورملکی سطح پر عدم استحکام کا سبب بنے گا۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو مالا مال کر دیا گیا مگر صوبائی عوام ان وسائل کی منصفانہ تقسیم سے محروم رہ گئے ‘ اسکا نتیجہ یہ ہے کہ صوبائی سطح پر محرومیوں میں اضافہ ہوا ۔ حکمرانوں کی ترجیحات اور رہیں اور عوامی مطالبات اور ترقی کے تقاضے کچھ اور۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو وسائل مہیا کرنے کا منشا یہ تھا کہ اسکے ثمرات عوام تک منتقل ہوں گے مگر آج صوبوں میں افلاس‘ بے روزگاری‘ تعلیم اور صحت کی ابتر صورتحال یہ واضح کیے دیتی ہے کہ پچھلے سولہ برسوں میں صوبوں کو اضافی مالی وسائل فراہم کرنے کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو ئے۔ ہمارے ملک میں اچھی حکمرانی بدستور سب سے بڑا سوال ہے۔ ملکی آبادی میں نوجوانوں کی اکثریت ہے مگر انکی ترقی کے وسائل دستیاب نہیں۔ اس محرومی نے صرف آج کی نسل کو نہیں آنیوالی نسلوں کو اور پاکستان کے مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔

اب کوئی وجہ نہیں کہ اس خود فراموشی کو مزید طاری رکھیں اور غیر پیداواری اور اصراف پہ مبنی سیاسی منصوبوں کو ترقی کی علامت فرض کر کے اسی محویت میں رہیں۔یہ ملک کے نوجوان کی نبض پر ہاتھ رکھنے‘ اسکے دل کی آواز سننے اور دوسروں کی مثالوں سے عبرت پکڑنے کا وقت ہے۔ ہمارے خطے کے بہت سے ممالک کے غیر معمولی حالات بذات ِخو د خبردار کررہے کہ ہم سنبھل جائیں اور ملک و قوم کیلئے اچھی حکمرانی یقینی بنائیں‘ بصورت دیگر خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔ ہمارے باب میں اچھی حکمرانی کا نسخہ بنیادی طور پر دو عوامل پر مبنی ہے‘ اختیارات کی تقسیم اور وسائل کی منصفانہ منتقلی ۔ ان اقدامات سے شروع کریں تو درست سمت میں سفر شروع ہو سکتا ہے اور خوشحالی کی منزل قریب آسکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں