اشیائے ضروریہ مزید مہنگی
وفاقی ادارۂ شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 27 اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہوئیں جبکہ مہنگائی کی مجموعی شرح بھی نو فیصد سے زائد رہی۔ مزیدمہنگی ہونے والی اشیا میں پٹرول‘ڈیزل‘ پیاز‘ ٹماٹر‘ آٹا‘ ایل پی جی‘ دالیں اور بناسپتی گھی جیسی اہم اشیائے ضروریہ بھی شامل ہیں۔ ملک میں مہنگائی صرف طلب و رسد کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں عدم استحکام کا نتیجہ ہے۔ زرعی مداخل مہنگے ہونے سے غذائی اجناس کی لاگت بڑھ جاتی ہے‘ اسی طرح ایندھن مہنگا ہونے سے فیکٹری مصنوعات مہنگی ہو جاتی ہیں‘ اور دکاندار اپنے اخراجات اضافی قیمت کی صورت میں صارفین سے وصول کرتا ہے یوں مہنگائی کا ایک سلسلہ چل نکلتا ہے۔ اس مسئلے کا دوسرا رخ عوامی قوتِ خرید میں مسلسل کمی ہے۔

تنخواہ دار طبقہ‘ دیہاڑی دار مزدور اور محدود آمدنی والے خاندان سب سے زیادہ متاثر ہیں کیونکہ انکی آمدنی گراوٹ کا شکار ہے جبکہ اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ یہی صورتحال رہی تو متوسط طبقہ مزید سکڑ جائے گا۔ جب تک پیداواری لاگت میں کمی نہیں کی جاتی‘ ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت کا خاتمہ یقینی نہیں بنایا جاتامہنگائی کی شرح میں کمی کا کوئی امکان نہیں۔ لہٰذا حکومت کو سستی توانائی کی فراہمی اور سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔اسی طرح کم آمدنی والے طبقات کیلئے ہدفی ریلیف‘ سستے بازاروں اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کو بھی مزید مؤثر بنانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔