اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی کے خلاف جدوجہد

سکیورٹی فورسز نے گزشتہ روز ہنگو میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج کے سات دہشت گردوں کو ہلاک کیا‘ تاہم اس کارروائی میں پاک فوج کے نوجوان افسر کیپٹن حمزہ مادرِ وطن پر قربان ہوگئے۔ دوسری جانب بلوچستان میں جاری آپریشن ردالفتنہ 3 میں فتنہ الہندوستان کے تین دہشت گرد بھی ہلاک کیے گئے۔ یہ کارروائیاں اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ ملک کی سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف پوری قوت اور عزم کے ساتھ برسرپیکار ہیں ۔دہشت گردی قومی سلامتی کے لیے بڑاچیلنج بن چکی ہے۔ سکیورٹی امور سے متعلق ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق جولائی رواں سال کا اب تک کا سب سے خونریز مہینہ ثابت ہوا۔

جس میں دہشت گردی کے مختلف واقعات 205 افراد شہید ہوئے جن میں 112سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے‘ جبکہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں 401 دہشت گرد مارے گئے۔ ایک ہی مہینے میں 401 دہشت گردوں کا خاتمہ بلاشبہ سکیورٹی آپریشنز کی مؤثریت کا مظہر ہے لیکن یہی اعدادوشمار خطرے کی شدت اور اس کے پھیلاؤ کی گہرائی بھی ظاہر کرتے ہیں۔اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ایک جامع قومی حکمتِ عملی تشکیل دی جائے۔ دہشت گردوں کی طرف سے جدید جنگی ٹیکنالوجی اور ڈرونز کا استعمال اور نئے نئے طریقہ واردات اس امر کے متقاضی ہیں کہ انسدادِ دہشت گردی کا نظام بھی اسی رفتار سے جدید بنایا جائے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں