اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

افغانستان، دہشت گردی کا مرکز

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی تازہ رپورٹ نے پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کو تقویت بخشی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔اس رپورٹ میں‘ جو 16 دسمبر 2025ء سے 9 جون 2026ء تک کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے‘ واضح کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی کی حمایت کی وجہ سے پاکستان پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سکیورٹی امور کے ایک تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں 79 فیصد اضافہ ہوا‘ جس کی ذمہ دار کالعدم ٹی ٹی پی ہے جسے افغانستان میں محفوظ ٹھکانے میسر ہیں۔اس پس منظر میں افغان عبوری حکومت کا یہ بیانیہ کہ اسکی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی‘ سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔

افغان طالبان نے دوحہ معاہدے میں دہشت گردوں کو افغان سرزمین کے استعمال سے روکنے کی ذمہ داری قبول کی تھی؛ اس ذمہ داری سے انحراف نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کیلئے خطرناک ہے۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت بارہا افغان حکومت کو اس خطرے سے آگاہ کر چکی ہے۔ اس لیے افغان طالبان 2020ء کے دوحہ معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی سرزمین کو ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں سے پاک کرنا ہو گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں