اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

یومِ آزادی: تجدیدِ عہد کا دن!

پاکستانی قوم آج ملی و قومی جذبے کے ساتھ یومِ آزادی منا رہی ہے۔ یہ محض روایتی جشن کا موقع نہیں بلکہ یہ ایک طویل سفر کی یاددہانی‘ قومی تشخص کے احساس اور تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ 14 اگست 1947ء کو جب دنیا کے نقشے پر ایک آزاد مسلم ریاست کا وجود ابھرا تھا تو ناقدین نے اس نوائیدہ مملکت کے قیام اور بقا پر کئی سوالات اٹھائے تھے مگر مشکلات کے اس طویل‘ کٹھن اور صبر آزما سفر میں پاکستانی قوم نے بے شمار تاریخی سنگ ہائے میل عبور کر کے ثابت کیا کہ یہ مٹی زرخیز بھی ہے اور صلاحیت سے بھرپور بھی۔ آج جب ہم قیامِ پاکستان کی آٹھ دہائیوں کی تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں تو ملکی تاریخ کے اوراق گواہی دے رہے ہیں کہ ہم نے بیرونی جارحیت‘ دہشت گردی کی طویل لہر اور داخلی بحرانوں کا پامردی سے مقابلہ کیا ہے اور اپنی آزادی کی حفاظت کیلئے لاکھوں جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ یہ انہی گراں قدر قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان دفاعی لحاظ سے دنیا کی ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن چکا ہے اور مسلم امہ کی واحد ایٹمی طاقت کے طور پر خطے میں توازن برقرار رکھنے کا ضامن ہے۔ اس مضبوط دفاعی اور تزویراتی حیثیت کی بدولت ہی خلیج عرب سمیت متعدد خطے اور عالمی طاقتیں پاکستان کو اپنا ایک ناگزیر تزویراتی شراکت دار دیکھ رہی ہیں۔

دفاعی اور خارجہ محاذ کی ان شاندا رکامیابیوں کے ساتھ ہمیں یہ تلخ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہو گی کہ ملک کو اس وقت بعض سنگین اور کثیر جہتی خطرات کا بھی سامنا ہے جن میں سکیورٹی کے خدشات نمایاں تر ہیں۔ مشرقی و مغربی سرحدوں پر ابھرتے نئے خطرات داخلی امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمہ وقت برسر پیکار ہیں۔ سکیورٹی خطرات کے متوازی پاکستان کا ایک بڑا چیلنج معاشی استحکام کا حصول ہے۔ مالی سال 2027ء کیلئے جی ڈی پی کی متوقع شرحِ نمو چار فیصد اور افراطِ زر کی شرح 7.2 سے 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کے اہداف یہ واضح کرتے ہیں ہماری معاشی رفتار آبادی کے اس بڑھتے حجم کو سنبھالنے کیلئے ناکافی ہے جس میں 2.55 فیصد سالانہ کی شرح سے اضافہ ہو رہا۔ 25 کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل اس خطے کی معاشی ضروریات اس معاشی رفتار کے ساتھ پوری نہیں کی جا سکتی ہیں۔ دوسری جانب خطے کے غیر یقینی حالات اور عالمی مارکیٹوں کی ناپائیداری نئے چیلنجز کو ابھار رہی ہے۔ عوام بالخصوص نچلے اور متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ٹیکس نیٹ کو بڑھانا اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ معاشی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ ملک میں تعلیم و صحت کی صورتحال کو بہتر بنانا بھی ناگزیر ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اپنے قیام کے بعد پاکستان نے شرح تعلیم میں اضافے کے حوالے سے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے مگر آئینی ذمہ داری کے تحت ہر بچے کو تعلیم فراہم کرنا اب بھی تشنہ تکمیل ہے۔ ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یونیسکو کی عالمی درجہ بندی میں 194 ممالک میں پاکستان کا تعلیم میں 157 واں نمبر ہے۔ قومی شرح خواندگی اگرچہ 63 فیصد کے لگ بھگ ہے‘ مگر دیہات میں آج بھی یہ شرح تقریباً 55 فیصد ہے۔ تعلیمی بجٹ بتدریج سکڑ کر جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہو چکا ہے۔ بعینہٖ معاملہ صحت کا ہے۔ پانچ برس سے کم عمر 37 فیصد بچے عدم نشوونما (سٹنٹنگ) کا شکار ہیں۔ ہر ایک ہزار میں سے نوازئیدہ اموات کی شرح 47 ہے‘ جو علاقائی ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ اگر انسانی ترقی کا جائزہ لیا جائے تو 193 ممالک میں پاکستان کا شمار 168ویں نمبر پر ہوتا ہے۔ یہ مسائل سب کو معلوم ہیں اور ان کا سبب بھی‘ کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے دستیاب فنڈز موجود نہیں۔ بنیادی طور پر ہر مسئلے کی جڑ کہیں نہ کہیں معاشی مسائل سے جا کر ملتی ہے۔ اس کا ایک حل ہماری دو تہائی سے زائد باصلاحیت نوجوان آبادی ہے‘ جس کو ہنر مند بنا کر ملکی ترقی کا انجن بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح اکثر معاشی اور سماجی مسائل کی جڑیں سیاسی عدم استحکام اور سماجی انتشار سے بھی جڑی ہیں۔ ملک کی پائیدار ترقی وخوشحالی کے لیے سیاسی وسماجی ہم آہنگی کا فروغ ناگزیر ہے۔

آزادی کے اس دن پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کو درپیش بحرانوں سے نکالنا کسی ایک فرد‘ ادارے یا سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ عوام اور حکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہر کوئی اپنا کردار مکمل دیانتداری اور ذمہ داری سے ادا کرے۔ جہاں حکومت قانون کی بالادستی‘ یکساں احتساب‘ شفاف طرزِ حکمرانی اور میرٹ پر مبنی نظام کو رائج کرے وہیں عوام کی یہ ذمہ داری ہے کہ ٹیکسوں کی بروقت ادائیگی‘ قانون پسندی‘ سماجی نظم وضبط اور بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے سنہری اصولوں ’’ایمان، تنظیم اور اتحاد‘‘ پر کاربند ہو کر ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ محض قومی دن منانے سے ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہیں ڈالا جا سکتا‘ بلکہ آزادی کے حقیقی ثمرات تبھی حاصل ہو سکتے ہیں جب ریاست کا ہر ستون اور معاشرے کا ہر فرد اپنی انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے‘ قائد اور اقبال کے خوابوں کے عین مطابق پاکستان کو ایک حقیقی‘ فلاحی اور جمہوری ریاست بنانے کے لیے عملی طور پر کوشش کرے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں