ڈیزل کی قیمت میں کمی
حکومت نے آئل ریفائنریز کے ساتھ مذاکرات کے بعد ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے فی لٹر کمی کر دی ہے۔ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اتار چڑھاؤ اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث ملک میں ایندھن کی بلند قیمتوں نے عوام اور معیشت دونوں پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ ایسے میں حکومت کی طرف سے ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی وقتی طور پر عوام کو ریلیف دینے کی ایک مثبت کوشش ہے۔ ڈیزل ملکی معاشی سرگرمی کا بنیادی جزو ہے۔ اس کا براہِ راست تعلق مال بردار ٹرانسپورٹ‘ پبلک ٹرانسپورٹ‘ زراعت اور صنعت سے ہے۔ ڈیزل کی قیمت جب بلند ہوتی ہے تو اس کا بوجھ صرف گاڑی کے مالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل‘ فصلوں کی پیداوار‘ صنعتی لاگت اور بالآخر عام صارف تک منتقل ہوتا ہے۔

چنانچہ ڈیزل کی قیمت میں کمی سے ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں کمی کی گنجائش پیدا ہو گی جو مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم اس کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے کیلئے حکومت کو نئی قیمت کے نفاذ کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی یقینی بنانے کیلئے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر ڈیزل سستا ہو مگر بس‘ ویگن‘ ٹرک اور مال برداری کے کرائے بدستور برقرار رہیں تو ریلیف کا بڑا حصہ عوام تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا۔ حکومت کو وقتی سبسڈی اور ہنگامی اقدامات کے ساتھ ایک مستقل توانائی پالیسی بھی تشکیل دینا ہوگی۔