اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پارلیمانی بالا دستی کا تقاضا

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے قائدین سے ملاقات اور ان سے پارلیمان میں مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ سیاسی جمود کو توڑنے کی جانب بڑی پیشرفت ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا یہ کہنا بجا ہے کہ اگر پارلیمان کو عزت دینی ہے تو پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں کو فعال کرنا ہوگا اور اپوزیشن کو کمیٹیوں میں بیٹھ کر اصلاحات کے عمل میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایوان کا ہر رکن‘ خواہ حکومتی بینچوں پر بیٹھے یا اپوزیشن بینچوں پر‘ عوام کا چُنا ہوا نمائندہ ہوتا ہے اور پارلیمان اسی وقت مؤثر انداز میں کام کر سکتی ہے جب ہر رکن اپنی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے ایوان میں بھرپور اور فعال کردار ادا کرے۔ جمہوری نظام میں حکومت اور اپوزیشن کو گاڑی کے دو پہیوں کی مانند سمجھا جاتا ہے جن کا توازن اور ہم آہنگی نظام کی گاڑی کو آگے بڑھانے کیلئے بنیادی شرط ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ دونوں پہیے متضاد سمتوں میں چلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جس کا نتیجہ سیاسی عدم استحکام اور سیاسی اداروں کی کمزوری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس طرزِ عمل نے نہ صرف پارلیمانی بالادستی کو نقصان پہنچایا بلکہ عوام کا اس نظام پر اعتماد بھی متزلزل کیا۔

دنیا کے ترقی یافتہ جمہوری ممالک کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو وہاں حکومت کی مخالفت کے باوجود اپوزیشن کا کردار پارلیمانی عمل کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ برطانیہ اور کئی دیگر ممالک میں شیڈو کابینہ کی شاندار روایت موجود ہے۔ وہاں اپوزیشن ہر وزارت کے مقابلے میں اپنا ایک ماہر مقرر کرتی ہے جو حکومتی پالیسیوں پر تعمیری تنقید کرتا اور متبادل حل پیش کرتا ہے۔ اسکے برعکس پاکستان میں اپوزیشن کا تصور حکومت کو معطل کرنے اور سڑکوں کی سیاست تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ جب اپوزیشن پارلیمانی اجلاسوں‘ پارلیمانی کمیٹیوں سے اور ایوان کی کارروائیوں سے الگ تھلگ رہتی ہے تو دراصل ان عوام کے مینڈیٹ کی توہین کرتی ہے جنہوں نے منتخب کر کے انہیں قانون سازی کے عمل میں اپنی آواز بننے کیلئے بھیجا ہوتا ہے۔ اسوقت انتخابی اصلاحات‘ نئی انتظامی تقسیم اور معیشت کی نحیف صورتحال جیسے بے شمار سنگین مسائل ہیں جو حل طلب ہیں مگر پارلیمان ان امور پر بحث کرنے کے بجائے خاموش ہے۔ پارلیمان کے غیر فعال ہونے سے نہ صرف قانون سازی کا محور تبدیل ہو جاتا بلکہ اسکے معیار پر بھی فرق پڑتا ہے۔ جب بلوں پر قائمہ کمیٹیوں اور ایوان میں تفصیلی بحث نہیں ہوتی تو قانون سازی میں خامیاں رہ جاتی ہیں۔

اسکی ایک مثال قریب ڈیڑھ ماہ قبل قومی اسمبلی سے پاس ہونیوالا ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل ہے‘ جو مناسب پارلیمانی جانچ پڑتال کی عدم موجودگی کی وجہ سے کئی پیچیدگیوں اور تنازعات کا شکار ہوا۔ ہماری سیاسی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ جب عجلت میں اور بغیر بحث کے منظور کیے گئے قوانین ملک میں شدید سیاسی بحران کا سبب بنے۔ کسی بھی جمہوری نظام میں ایک مضبوط اور فعال پارلیمان ہی وہ واحد فورم ہے جو حکومت کی کارکردگی کو مؤثر اور جوابدہ بنا سکتی ہے۔ پارلیمان کی قائمہ کمیٹیاں حکومت پر نظر رکھنے اور اس کے اخراجات و پالیسیوں کا احتساب کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہوتی ہیں۔ اگر اپوزیشن ان کمیٹیوں کا حصہ نہیں بنتی تو اپنے طرزِ عمل سے وہ حکومت کو کھلی چھٹی دے دیتی ہے کہ وہ من مرضی کے فیصلے کرے۔ بلاول بھٹو زرداری کا یہ مشورہ نہ صرف وقت کی پکار بلکہ پارلیمان کی بالا دستی کا تقاضا بھی ہے۔

پارلیمان عملی معنوں میں اسی وقت بالا دست بنے گی جبکہ اراکین خود اس کے تقدس اور وقار کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسے جمہوری نظام کا محور بنائیں گے۔ ضروری ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اور سیاسی قیادت ذاتی اَنا اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچے۔ اگر اب بھی جمہوری گاڑی کے دونوں پہیوں نے ایک ہی سمت میں سفر شروع نہ کیا تو پارلیمان کی افادیت بے اثر اور جمہوریت کا سفر مزید کٹھن ہونے کا خدشہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں