اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مزید مہنگائی

وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 9.66فیصد تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق پیاز کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 132فیصد‘ ٹماٹر 93‘ آٹا 62‘ ایل پی جی 51‘ ڈیزل 33‘ پٹرول 27 اور بجلی کی قیمت میں تقریباً 23فیصد اضافہ ہوا جبکہ دال چنا‘ لہسن‘ چائے‘ دودھ اور بعض دوسری ضروری اشیا کی قیمتیں بھی بڑھیں۔ اشیائے ضروریہ‘ پٹرولیم مصنوعات‘ بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔ توانائی مہنگی ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف بجلی یا ایندھن کے بل تک محدود نہیں رہتے بلکہ نقل و حمل‘ زراعت‘ صنعت‘ تجارت اور بالآخر ہر شے کی پیداواری اور ترسیلی لاگت بڑھ جاتی ہے۔

مہنگائی سے نمٹنے کی ذمہ داری صرف منافع خوری‘ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے خلاف کارروائیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ یہ اقدامات اپنی جگہ مگر دیرپا حل کیلئے پیداوار اور پیداواری صلاحیت بڑھانا‘ زرعی اجناس کی سپلائی چین بہتر بنانا‘ درآمدی انحصار کم کرنا‘ توانائی کی لاگت گھٹانا اور ٹیکس و ڈیوٹی کے ایسے ڈھانچے پر نظرثانی ضروری ہے جو اشیائے ضروریہ کی قیمت بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے ساتھ روزگار کے مواقع اور کمزور معاشی سکت کے حامل طبقات کی آمدن بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں