معاشی چیلنجز
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے مہینے (جولائی) میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 32کروڑ آٹھ لاکھ ڈالر رہا۔دوسری جانب براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری بھی مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔رواں مالی سال کے پہلے مہینے میں بیرونی سرمایہ کاری 17کروڑ 86لاکھ ڈالر رہی‘ جبکہ جولائی 2025ء میں یہ 22کروڑ35لاکھ ڈالر تھی‘ یعنی سرمایہ کاری میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 20 فیصد کمی آئی۔ کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس میں تبدیل کرنے اور زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کیلئے حکومت کو برآمدات کے فروغ کو اپنی معاشی پالیسی کا محور بنانا ہو گا جبکہ سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے حکومت کو پالیسیوں کا تسلسل‘ سادہ ٹیکس نظام‘ کاروباری لاگت میں کمی‘ سستی توانائی کی فراہمی‘ منافع اور سرمایہ واپس لے جانے میں آسانی‘ معاہدوں کا مؤثر نفاذ اور سرکاری اداروں میں اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔

برآمدات میں اضافے کیلئے صنعتی شعبے کو سستی اور بلاتعطل توانائی‘ کسانوں کو سستے اور معیاری زرعی مداخل اور برآمد کنندگان کو مناسب سہولتوں کی فراہمی‘ نئی منڈیوں تک رسائی اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ ضروری ہے۔ صرف ترسیلاتِ زر یا قرضوں کے ذریعے بیرونی کھاتے کو مستقل بنیادوں پر متوازن نہیں رکھا جا سکتا۔ پائیدار معاشی استحکام کیلئے برآمدی آمدنی‘ بیرونی سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں بیک وقت اضافہ ضروری ہے۔