اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت

بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو درپیش مسائل کا حل ڈائیلاگ کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ محض امن وامان کا مسئلہ نہیں یہ سیاسی‘ معاشی‘ انتظامی اور سماجی محرومیوں کا ملغوبہ ہے۔ اس لیے پائیدار امن کیلئے مکالمہ‘ سیاسی مفاہمت اور ترقی بہترین لائحہ عمل ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی بلوچستان کی اہم شخصیات اور سیاسی قیادت سے ہونے والی ملاقات بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس دوران چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور ہمیشہ جڑا رہے گا۔ بلوچستان پاکستان کا جغرافیائی طور پر سب سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے جس کی اہمیت غیر معمولی ہے‘ مگر یہ باعثِ تشویش امر ہے کہ یہ صوبہ ترقی میں باقی تینوں وفاقی اکائیوں سے پیچھے ہے۔ بلوچستان کے کئی علاقوں میں بنیادی سہولتوں‘ تعلیم‘ صحت‘ روزگار اور معاشی مواقع کی کمی ایک تلخ حقیقت ہے۔ بلوچستان میں بدامنی کے پیچھے ان محرومیوں کا بڑا کردار ہے۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والی محرومی‘ سیاسی بے اعتمادی اور ترقی کے فقدان سے نوجوانوں میں مایوسی پیدا ہوتی ہے جسے ملک دشمن عناصر اپنے ناپاک عزائم کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

اس لیے شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ان بنیادی وجوہات کا ازالہ کرنا بھی ضروری ہو گا جو انتہا پسندی کیلئے سازگار ماحول پیدا کرتی ہیں۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ حکومت میں اعلیٰ سطح پر اس صورتحال کا احساس کیا جا رہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل صرف طاقت سے حل نہیں کیے جا سکتے۔ ریاست کو جہاں مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے وہیں ناراض سیاسی اور سماجی طبقات سے بات چیت کے دروازے بھی کھلے رکھنے چاہئیں۔ ماضی میں بھی بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے سیاسی ڈائیلاگ‘ گرینڈ جرگے اور قومی سطح پر مفاہمت کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں مگر عملی پیش رفت محدود رہی۔ اب ایسے اقدامات ہونے چاہئیں جو پائیدار امن کی نوید ثابت ہوں۔ ناراض دھڑے‘ قبائلی عمائدین اور وہ نوجوان جو تشدد کے بجائے سیاسی راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں انہیں قومی دھارے میں آنے کا موقع ملنا چاہیے‘ مگر اس کے ساتھ بلوچستان میں پسماندگی کا خاتمہ از بس ناگزیر ہے۔ یاد رہے کہ چند قبائلی سرداروں یا سیاسی وڈیروں کو نواز دینے سے بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ بلوچستان میں ترقی کے مساوی اور نتیجہ خیز مواقع فراہم کرنے اور پائیدار امن کیلئے ضروری ہے کہ ریاست اور بلوچستان کے عوام میں فاصلے کم ہوں اور ریاست بلوچ عوام کے دل کی آواز کو بلا واسطہ سنے اور ان کی ضروریات کا احساس کرے۔ تعلیم‘ صحت‘ صاف پانی‘ سڑکیں‘ بجلی‘ روزگار اور مقامی معیشت میں سرمایہ کاری محض ترقیاتی منصوبے نہیں بلکہ امن کی سرمایہ کاری ہیں۔

بلوچ نوجوانوں کو تعلیم وتربیت اور روزگار کے مواقع سے آراستہ اور جدید وسائل سے بہرہ ور کرنا ہو گا۔ پائیدار امن کے قیام کی یہ ایک ایسی صورت ہے جس میں دشمن کے ارادے نقب نہیں لگا سکتے۔ قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی آبادی کا منصفانہ حصہ اور فیصلہ سازی میں شمولیت ضروری ہے تاکہ پاکستان کے دشمن ان کی محرومیوں کا استحصال نہ کر سکیں۔ بلوچستان کے مسئلے کے پائیدار حل کیلئے ریاستی رِٹ‘ سیاسی مکالمہ‘ معاشی انصاف‘ آئینی حقوق اور مقامی شمولیت کی اشد ضرورت ہے۔ اگر حکومت ’گرینڈ ڈائیلاگ‘ کے تصور کو مستقل‘ سنجیدہ اور نتیجہ خیز سیاسی عمل میں تبدیل کر سکے تو یہ بلوچستان ہی نہیں ملک بھر کیلئے بڑی مستحسن بات ہو گی کیونکہ بلوچستان کا امن پاکستان کا امن ہے اور بلوچستان کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں