تعلیمی نظام کا آئینہ
پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کے نویں جماعت کے سالانہ امتحانات 2026ء کے نتائج ہمارے تعلیمی نظام کی مجموعی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان امتحانات میں لاہور بورڈ میں ناکامی کا تناسب 53 فیصد رہا۔ دیگر بورڈز کے نتائج میں بھی کم و بیش ایسی ہی صورتحال سامنے آئی ہے۔ لاہور بورڈ میں نجی اداروں کے امیدواروں کی کامیابی کی شرح تقریباً 71 فیصد رہی جبکہ سرکاری سکولوں کے صرف 39فیصد طلبہ کامیاب ہو سکے۔ نویں جماعت بچوں کے تعلیمی سفر کا ایک اہم مرحلہ اور آگے کی تعلیم کی بنیاد ہے۔ اگر اس سطح پر ہی بچوں کی بنیاد کمزور رہ جائے تو ان کا آئندہ تعلیمی سفر متاثر ہونا فطری ہے۔

حکومت کو ان مایوس کن نتائج کے بعد یہ کھوج ضرور لگانی چاہیے کہ اصل خرابی کہاں ہے۔ کیا سرکاری سکولوں کو مطلوبہ تعلیمی وسائل اور سہولتیں میسر نہیں یا اساتذہ کی تربیت اور نگرانی کا نظام مؤثر نہیں؟ ان نتائج کا سب سے افسوسناک پہلو لاہور اور ملتان میں دو طلبہ کا امتحانی نتیجہ اچھا نہ آنے پر زندگیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔یہ واقعات ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ بچوں کو کم نمبروں یا ناکامی پر ڈانٹ ڈپٹ کرنے یا دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے حوصلہ دیں اور انہیں سمجھائیں کہ امتحان میں ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ اپنی غلطیوں اور کمزوریوں سے سیکھنے کا موقع ہے۔