دراندازی اور دہشت گردی کے خطرات
سکیورٹی فورسز نے ضلع شمالی وزیرستان کے راستے افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 15 دہشت گرد ہلاک کر دیے۔سرحدی پٹی کے قریب مسلسل چھتیس گھنٹوں تک جاری رہنے والے شدید اور اعصاب شکن آپریشن کے بعد فتنہ الخوارج کے مسلح دہشت گردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد ملک میں امن واستحکام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے تھے‘ کابل حکومت دہشت گردوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے‘ مؤثر سرحدی انتظام یقینی بنانے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ دشوار گزار اور حساس علاقے میں سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی اور مربوط کارروائی اس امر کی واضح عکاس ہے کہ ملک کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کس قدر گہرے اور سنگین ہیں۔ دہشت گرد پاکستان میں برسوں کی قربانیوں کے بعد قائم ہونیوالے امن اور معاشی و سماجی استحکام کو نقصان پہنچا کر عدم تحفظ اور انتشار کا ماحول پیدا کرنا چاہتے تھے‘ تاہم سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی سے یہ مذموم مقصد پورا نہیں ہو سکا۔ اس واقعے سے یہ تلخ حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے کہ مغربی سرحد اب بھی ہمارے داخلی امن کیلئے ایک مستقل اور تشویشناک چیلنج بنی ہوئی ہے‘ جس کے تانے بانے کابل کی عبوری حکومت کی پالیسیوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے انحراف سے جا ملتے ہیں۔

دراندازی کی یہ کوشش ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب پاکستان کے مغربی صوبوں‘ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی لہر میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں دہشت گردی کے واقعات میں 307 اہلکار اور 404 شہری شہید ہوئے جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ تعداد بالترتیب 284 اور 267 تھی۔ اس دوران سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں بھی تیزی آئی اور گزشتہ سال کے 180 کے مقابلے میں رواں سال کی پہلی ششماہی میں 1442 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ قابلِ غور امر یہ ہے کہ دہشت گردی کے 90 فیصد سے زائد واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پیش آئے اور ان میں فتنہ الہندوستان‘ فتنہ الخوارج اور ان کی ذیلی تنظیموں ملوث تھیں‘ جنہیں سرحد پار سے ہر طرح کی لاجسٹک سپورٹ‘ جدید ترین اسلحہ اور محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔پاکستان بارہا سفارتی سطح پر کابل کو یہ باور کراچکا ہے کہ عسکریت پسند افغان سرزمین کو پاکستان میں داخلے کیلئے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں مگر افغان حکمران دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت سے نہ صرف چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں بلکہ بعض اوقات ان عناصر کو بالواسطہ تحفظ بھی فراہم کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پاک افغان تعلقات میں بداعتمادی کی خلیج مسلسل وسیع ہوتی جا رہی ہے۔
افغانستان کی اس مجرمانہ غفلت اور خطے کے امن کو داؤ پر لگانے والی پالیسیوں پر پوری دنیا کی مہرِ تصدیق ثبت ہو چکی ہے جس کا واضح ثبوت گزشتہ ماہ جاری کی جانے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی جامع رپورٹ ہے‘ جس نے نہ صرف پاکستان کے مؤقف کو بالکل درست ثابت کیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ افغان طالبان کی موجودہ پالیسیوں اور شدت پسندوں کو دی جانے والی کھلی چھوٹ نے پورے جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اسلام آباد دوٹوک انداز میں کابل پر یہ واضح کر چکا ہے کہ اگر ملکی سلامتی‘ خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان سرحد پار موجود دہشت گردوں کے اڈوں کو نشانہ بنانے سے رتی برابر گریز نہیں کرے گا۔ حالیہ سرحدی آپریشن پاکستان کے اس عزم کا اعادہ ہے کہ اگر اب بھی عبوری کابل حکومت اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتی تو پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔