پاک کرغز معاہدے
وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ کرغزستان کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے 17 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط‘ اور دوطرفہ تجارت کو موجودہ تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر دو برس میں 20 کروڑ ڈالر سالانہ تک لیجانے پر اتفاق ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔ کرغزستان پاکستان کیلئے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان اقتصادی و تجارتی رابطے کا ایک اہم دروازہ بن سکتا ہے۔ کرغزستان کی پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی میں دلچسپی اور دونوں ملکوں کے درمیان ٹرانزٹ تجارت کا معاہدہ اس امکان کو مزید تقویت دیتا ہے۔ اگر سڑک‘ ریل اور فضائی روابط اور تجارتی راہداریوں کو مؤثر بنایا جائے تو پاکستان وسطی ایشیائی منڈیوں تک اپنی رسائی بڑھا سکتا ہے۔

تاہم اصل امتحان معاہدوں پر عملدرآمد ہے۔ کرغزستان کیساتھ تجارتی حجم 20کروڑ ڈالر سالانہ تک پہنچانے کیلئے محض بیانات سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس کیلئے حکومت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ یہ پہلو اسلئے بھی اہم ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے تقریباًڈھائی سالہ دورِ اقتدار میں 56بیرونِ ملک دوروں میں درجنوں معاہدے اور سینکڑوں ایم او یوز ہوچکے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے منصوبے عملی صورت میں ڈھل سکے‘ ملک میں کتنی سرمایہ کاری آئی‘ برآمدات میں کتنا اضافہ ہوا اور روزگار کے کتنے مواقع پیدا ہوئے؟ اصل کامیابی تبھی حاصل ہو گی جب ان معاہدوں اور یادداشتوں کے نتائج قومی معیشت میں دکھائی دیں گے۔