پمز جائزہ رپورٹ اور طبی نظام
اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے پمز ہسپتال کی جائزہ رپورٹ ملک کے پورے طبی انفراسٹرکچر پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ رپورٹ میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات سمیت ایڈمنسٹریشن‘ کلینکل‘ نرسنگ اور بائیو میڈیکل جیسے بنیادی شعبوں میں جن سنگین خامیوں اور بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے وہ یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ ملک کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں طبی نظام کس حد تک کھوکھلا ہو چکا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا کہ 26 اگست کو پمز ہسپتال میں 14 نومولود بچوں کا جان لیوا سانحہ اچانک پیش آنے والا حادثہ نہیں تھا بلکہ برسوں پر محیط مجرمانہ غفلت‘ غیر تربیت یافتہ عملے‘ بائیو میڈیکل آلات کی دیکھ بھال میں سستی اور سکیورٹی پروٹوکولز کی عدم موجودگی کا شاخسانہ تھا۔

اگر ماضی کے حادثات سے سبق سیکھا جاتا اور ریگولیٹری قوانین پر سختی سے عملدرآمد ہوتا تو شاید یہ حادثہ پیش نہ آتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس جائزہ رپورٹ کو روایتی انکوائری رپورٹ سمجھنے کے بجائے ایک گائیڈ بُک کا درجہ دیا جائے اور پورے ملک کے طبی نظام کو نئی اور مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں کا اسی طرز پر سخت آڈٹ کرایا جائے اور وہاں سیفٹی اور کلینکل پروٹوکولز کو یقینی بنایا جائے۔ اسی صورت میں ایسے سانحات کا سدباب یقینی بنایا جا سکتا ہے۔