نئے صوبے، بہتر طرزِ حکمرانی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو کوئٹہ میں بیٹھ کر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق صوبوں کی تشکیل لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے انتظامی ڈھانچے‘ صوبوں کے وسیع رقبے اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پیدا ہونے والے مسائل پر سنجیدہ بحث جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ انتظامی اور صوبائی نقشے اور اس سے پیدا ہونے والی مشکلات کے پیش نظر نئے انتظامی یونٹس کے منطقی مطالبے کو کسی صورت رد نہیں کیا جا سکتا۔ نئے صوبوں کا قیام ایک اہم قومی معاملہ ہے‘ لہٰذا اس معاملے کو سیاسی کشمکش یا وقتی مفادات کی نذر کرنے کے بجائے قومی مفاہمت اور پارلیمانی اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے۔ خوش آئند بات ہے کہ مختلف سیاسی حلقوں سے اس مسئلے کو پارلیمانی راستے سے حل کرنے کی بات سامنے آ رہی ہے۔ وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے بھی حال ہی میں کہا کہ اگر عوام نئے صوبے چاہتے ہیں تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا اور صوبوں سے متعلق معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے۔

یقینا اس موضوع پر حتمی فیصلہ پارلیمان ہی کے ذریعے ہونا چاہیے‘ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عوامی اور ماہرین کی سطح پر ہونے والی بحث اور تجاویز کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جائے۔ سوشل میڈیا‘ عوامی حلقوں اور مختلف فکری و سیاسی مباحث میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ لوگ بڑے صوبوں کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو اپنے مسائل کے حل کیلئے ناکافی سمجھتے ہیں۔ عوام یہ باور کر چکے ہیں کہ چھوٹے انتظامی یونٹس نہ صرف حکومت کو عوام کے قریب لا سکتے ہیں بلکہ بہتر نگرانی‘ تیز تر فیصلہ سازی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ مؤثر بلدیاتی نظام نئے صوبوں کا متبادل نہیں۔ بااختیار اور مضبوط بلدیاتی ادارے یقینا شہری اور عوامی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں مگر صرف بلدیاتی انتخابات کروا دینا کافی نہیں۔ ماضی میں بھی بلدیاتی انتخابات ہوتے رہے ہیں لیکن یہ ادارے اپنے حقیقی مقاصد حاصل کرنے میں بڑی حد تک ناکام رہے کیونکہ اختیارات‘ مالی وسائل اور انتظامی فیصلوں کیلئے انہیں صوبائی حکومتوں پر انحصار کرنا پڑا‘ نتیجتاً وہ آزاد اور بااختیار مقامی حکومتوں کے بجائے صوبائی نظامِ حکومت کی توسیع بن کر رہ گئے۔
بلدیاتی اداروں کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ انہیں مناسب مالی وسائل‘ انتظامی خودمختاری اور فیصلہ سازی کے حقیقی اختیارات حاصل ہوں۔ ملک عزیز اس وقت کئی سنگین شہری‘ انسانی اور سماجی مسائل سے دوچار ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ‘ غربت‘ بیروزگاری‘ تعلیمی نظام کی کمزوریاں‘ بچوں کی غذائی ضروریات‘ شہروں میں بڑھتا ہوا آبادی کا دباؤ‘ بنیادی سہولتوں کی کمی اور سرمایہ کاری کے محدود مواقع ایسے مسائل ہیں جن سے نمٹنے کیلئے مؤثر‘ تیز رفتار اور مقامی سطح پر جوابدہ حکمرانی کی ضرورت ہے۔ریاستی نظام کو عوام کیلئے مؤثر‘ جوابدہ اور قابلِ رسائی بنانے کیلئے نئے صوبے ناگزیر ہیں اور اس میں مزید تاخیر دانشمندانہ نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں‘ سیاسی جماعتیں‘ ماہرین اور سول سوسائٹی اس موضوع پر سنجیدہ قومی مکالمے کا آغاز کریں‘ پارلیمان اس بحث کو باقاعدہ آئینی اور قانونی عمل کے ذریعے آگے بڑھائے اور اتفاقِ رائے پیدا کرکے ایسے انتظامی یونٹس تشکیل دیے جائیں جو عوامی مسائل کے حل‘ معاشی ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی میں معاون ثابت ہوں۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ بہتر حکمرانی کی بڑھتی ہوئی ضرورت بن چکا ہے۔