اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

خوردنی تیل کی درآمدات

گزشتہ مالی سال کے دوران پانچ ارب 86کروڑ ڈالر‘ یعنی 1624ارب 82کروڑ روپے سے زائد مالیت کا خوردنی تیل درآمد کیا گیا۔ مالی سال 2025ء میں یہی درآمدی بل تقریباً تین ارب 40کروڑ ڈالر تھا‘ جبکہ چھ سال کے دوران خوردنی تیل کا درآمدی بل تقریباً دو گنا ہو چکا ہے۔ خوردنی تیل کے درآمدی بل میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ملک میں تیل دار فصلوں کی کم کاشت ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2026ء کے مطابق ملکی ضرورت کا محض دس فیصد خوردنی تیل مقامی سطح پر پیدا کیا جاتا ہے۔ ایک زرخیز زرعی ملک ہونے کے باوجود اپنی غذائی ضروریات کیلئے درآمدات پر انحصار ملکی زرعی پالیسی پر سوالیہ نشان ہے۔

ملک عزیز میں سرسوں‘ کینولا‘ سورج مکھی اور دیگر تیل دار فصلوں کیلئے موزوں موسمی حالات اور زمین موجود ہے‘ مگر کسان کو وہ معاشی ترغیب‘ معیاری بیج‘ جدید تحقیق‘ زرعی مشینری اور منڈی کا مؤثر نظام میسر نہیں جس سے وہ ان فصلوں کو ترجیح دے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حکومت نے 2023ء میں درآمدات میں کمی کیلئے قومی سیڈ آئل پالیسی کی تیاری شروع کی تھی لیکن ابھی تک ایسی کوئی پالیسی تشکیل نہیں پا سکی۔ حکومت کو خوردنی تیل کی مقامی پیداوار بڑھانے کیلئے بلاتاخیر واضح اہداف‘ مقررہ مدت اور مختص فنڈز کے ساتھ قومی آئل سیڈ پالیسی نافذ کرنی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں