مہنگائی میں اضافہ
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پے در پے اضافے کے اثرات عام آدمی کی زندگی کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 17 ستمبر کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ مہنگائی کی شرح 10.64فیصد تک جا پہنچی۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر ایل پی جی کی قیمت میں 60 فیصد‘ ڈیزل 54فیصد‘ پٹرول 48فیصد اور بجلی کی قیمت میں 33فیصد اضافہ ہوا جبکہ آٹا‘ پیاز اور سرخ مرچ پاؤڈر سمیت متعدد اشیائے خورونوش بھی مہنگی ہوئی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے مال برداری سمیت زرعی اور صنعتی لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے‘ اور یہی اضافی لاگت صارفین کو زیادہ قیمتوں کی صورت میں منتقل ہوتی ہے۔

لیکن مہنگائی میں اضافہ صرف اشیا کی قیمت بڑھنے سے نہیں بلکہ آمدن اور اخراجات کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق سے بھی ہوتا ہے۔ مہنگائی ایک کثیرجہتی مسئلہ ہے۔ توانائی‘ پیداواری لاگت‘ سپلائی چین‘ منڈیوں کی نگرانی اور عوام کی قوتِ خرید‘یہ سب عوامل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک عامل کو نظرانداز کرکے مہنگائی کے مسئلے کا پائیدار حل ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری ریلیف کے ساتھ ایسی مربوط معاشی حکمت عملی اختیار کی جائے جو پیداواری لاگت کم کرے‘ قیمتوں میں غیرضروری اضافے کا راستہ روکے اور عام آدمی کی حقیقی قوتِ خرید بحال کرنے میں مدد دے۔