بزدلانہ حملے
کوہاٹ پولیس لائنز میں نمازِ جمعہ کے دوران دہشت گردی کے المناک وقوعے نے صوبے میں امن وامان کی خوفناک صورتحال کو مزید واضح کر دیا ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے پرانی پولیس لائنز کی مسجد اور سپیشل برانچ کے دفتر کو نشانہ بنایاگیا۔ یہ ایک بڑے پیمانے کا منظم دہشت گردانہ حملہ تھا جس میں ایک طرف بارود بھری گاڑی کو مسجد سے ٹکرایا گیا جبکہ اسی دوران مسلح حملوں آوروں نے پولیس لائنز میں سپیشل برانچ کے دفتر کو نشانہ بنایا۔ حملے میں 21 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ پولیس کی جانب سے دہشت گردوں کا جس بہادری سے مقابلہ کیا گیا وہ قابلِ تحسین ہے۔ خیبر پختونخوا ایک عرصے سے دہشت گردی کے نشانے پر ہے اور اس میں پولیس بطور پہلی دفاعی لائن دہشت گردوں کا پہلا ہدف ہے۔ اس صوبے کی پولیس نے جو قربانیاں دی ہیں وہ کسی بھی دوسرے صوبے سے زیادہ ہیں۔ اگر اس میں خیبر پختونخوا کا موازنہ کسی صوبے سے کیا جا سکتا ہے تو وہ بلوچستان ہے۔ ملک کے یہ دونوں صوبے دہشت گردی کے سامنے فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو درپیش یہ صورتحال ان کی افغانستان سے ہمسائیگی کا نتیجہ ہے جہاں دہشت گردی پروان چڑھتی ہے۔

افغان انتظامیہ کو دہشت گردی کے حوالے سے خبردار کرنے کیلئے پاکستان کی جانب سے جو کچھ ممکن تھا کیا گیا مگر بدقسمتی سے صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آ سکی۔ افغانستان دہشتگردی کی آماجگاہ تھا اور بدستور ہے‘ اور پچھلے پانچ برس کے دوران اس خطرے میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہو جاتا ہے کہ دہشت گردی سے دفاع کیلئے زیادہ مضبوط اور مربوط انتظامات کیے جائیں۔ یہ پورے ملک میں ضروری ہے تاہم کے پی اور بلوچستان میں اسکی ترجیحی بنیادوں پر ضرورت ہے۔ دونوں صوبوں میں پولیس کو ان خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے مزید تکنیکی سہولتیں اور افرادی قوت مہیا کرنا ہو گی تاکہ شہری علاقوں میں قیام امن یقینی بنانے کیلئے زیادہ بہتر اقدامات کیے جا سکیں۔ دونوں صوبوں میں پولیس کی سطح پر کام کی بہت گنجائش موجود ہے۔ امن وامان کی اس صورتحال میں مناسب تیاری کیلئے صوبوں اور مرکز کے درمیان مفاہمت اور بہتر رابطہ کاری اور صوبائی سطح پر ہم آہنگی کی ضرورت ہے تاکہ اتفاقِ رائے سے اقدامات کیے جا سکیں۔ کے پی اور وفاقی حکومت کے سیاسی اختلافات اتفاق ِرائے کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں جبکہ صوبائی حکومت اپنی سطح پر بھرپور اقدامات نہیں کر سکی‘ جس کا فائدہ دہشت گردوں نے اٹھایا ہے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ اور کوئی اس کا انکار نہیں کر سکتا مگر قومی مفادات اور خاص طور پر سکیورٹی کے معاملے میں سیاسی جماعتوں اور حکومتو ں کو ایک صفحے پر نظر آنا چاہیے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس مالی وسائل کی کمی نہیں؛ چنانچہ سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے میں مالی وسائل کی قلت کا مسئلہ تو پیش نہیں آنا چاہیے‘ البتہ سیاسی سطح پر حکومتوں کی مصروفیات اگر انہیں اس جانب سوچنے اور عمل کرنے کا وقت نہ دیں تو دوسری بات ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے منظم اور بڑے پیمانے کے واقعات ملک بھر کیلئے تشویش کا باعث ہیں۔ ایسا تاثر پیدا ہونا بے جا نہیں کہ دہشتگرد ایک صوبے میں اس شدت کی کارروائیاں کر سکتے ہیں تو ان کا ملک کے دیگر حصوں میں پہنچ کر دہشتگردی کرنا بھی خارج از امکان نہیں۔ رواں برس کے شروع میں اور گزشتہ برس اسلام آباد میں خود کش حملوں کے دو واقعات اس حوالے سے درپیش خطرات کو واضح کرتے ہیں۔
اس صورتحال میں ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو دہشتگردی کے مقابل پہلا محاذ تصور کرتے ہوئے قومی عزم کے ساتھ ایسے اقدامات کیے جائیں جو صوبوں کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کریں اور دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جائے‘ بصورتِ دیگر ملک کے دیگر حصو ں کو بھی دہشتگردی کے بھیانک خطرات سے محفوظ تصور نہیں کیا جا سکتا۔