پٹرول ریلیف اور متبادل کی تلاش
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی عالمی رسد متاثر ہونے سے اس وقت پوری دنیا بدترین توانائی بحران کی زد میں ہے‘ جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر زیادہ شدت سے اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس عالمی بحران کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے شروع کی گئی پٹرول ریلیف سکیم بلاشبہ ایک مثبت‘ بروقت اور قابلِ ستائش کاوش ہے۔ اب تک ملک بھر میں 22 لاکھ سے زائد افراد اس ڈیجیٹل سسٹم میں رجسٹر ہو چکے ہیں اور لاکھوں غریب شہریوں‘ موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جا چکا ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں یہ سکیم عام آدمی کے روزگار کو بچانے اور ان کے چولہے کو جلتا رکھنے کی ایک مخلصانہ کوشش دکھائی دیتی ہے‘ لیکن اس امدادی سکیم کی کامیابی کے ساتھ ہی اس کے مستقبل کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات بھی درپیش ہیں۔ سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ مالی مشکلات سے دوچار حکومت کب تک اس بھاری ریلیف کا بوجھ برداشت کر پائے گی؟

ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس نوعیت کی سبسڈیز قومی خزانے پر ایسا اضافی بوجھ ڈالتی ہیں جو تادیر برقرار رکھنا ممکن نہیں ہو پاتا۔ وفاقی وزیر پٹرولیم کا یہ تشویشناک انتباہ کہ پٹرول کی قیمت ایک ہزار روپے فی لیٹر تک بھی جا سکتی ہے‘ صورتحال کی سنگینی کو پوری طرح واضح کرتا ہے۔ اگر عالمی بحران یا قلت کے باعث قیمتیں واقعتاً اس نہج پر پہنچ گئیں تو حکومت کا یہ ریلیف اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہو جائے گا۔ موجودہ بحران کا ایک پائیدار حل یہ ہے کہ حکومت ملک میں الیکٹرک وہیکلز کو ہنگامی بنیادوں پر فروغ دے۔ اس مقصد کیلئے ای وی گاڑیوں‘ موٹر سائیکلوں اور ان کے پرزہ جات پر سے تمام اقسام کی امپورٹ ڈیوٹیز اور ٹیکسز کا فوری خاتمہ کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ نہ صرف ان گاڑیوں کی آسان درآمد کو یقینی بنائے بلکہ ان کی مقامی پیداوار کیلئے بھی خصوصی مراعات فراہم کرے۔ اس وقت ملک میں کُل رجسٹرڈ گاڑیوں کا تین چوتھائی سے زائد موٹر سائیکلوں پر مشتمل ہے‘ جن کی تعداد سوا تین کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اگر اس تعداد کا نصف بھی الیکٹرک بائیکس سے بدل جائے تو پٹرول کی اچھی خاصی بچت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں کے ڈھانچے پر نظرِ ثانی کرنا بھی ناگزیر ہے۔ کم از کم تیل بحران کے دوران ہی اگر حکومت ٹیکسوں کی شرح میں مناسب کمی کر دے تو عوام کو بڑا ریلیف میسر آ سکتا ہے۔
اگرچہ توانائی کا بحران اس وقت پوری دنیا کیلئے یکساں چیلنج ہے لیکن علاقائی ممالک میں اس کے اثرات اُس نوعیت کے نہیں جیسے پاکستان میں دیکھے جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ خرابی صرف عالمی حالات میں نہیں بلکہ ہمارے معاشی نظام‘ مالیاتی پالیسیوں اور انتظامی ڈھانچے میں بھی موجود ہے اور اندرونی خرابی کو دور کیے بغیر ہم بیرونی بحران کا پائیدار مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حکومت کو اب عارضی اقدامات سے نکل کر جرأت مندانہ فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ ملک کو مستقل بنیادوں پر پٹرولیم کے اس تباہ کن بحران سے نجات دلا سکے۔