مشرق وسطیٰ، تنازعات اور تجارت
دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہونے والی آبنائے باب المندب ان دنوں کشیدگی کی زد میں ہے۔ اس تزویراتی آبی گزرگاہ میں تجارتی جہازوں پر حوثی ملیشیا کے حملوں نے نہ صرف عالمی تجارت اور جہاز رانی کے تحفظ سے متعلق شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی پہلے سے پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کو بھی مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ باب المندب عالمی تجارت کیلئے ایک اہم بحری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 12 فیصد بحری تجارت گزرتی ہے۔ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے جوڑنے والی اس گزرگاہ کی دنیا کے مختلف حصوں کے درمیان اشیا کی ترسیل‘ توانائی کی سپلائی اور تجارتی سرگرمیوں کیلئے اہمیت مسلمہ ہے؛ چنانچہ یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں یہ عالمی تجارت‘ شپنگ انشورنس‘ مال برداری کے اخراجات اور سپلائی چینز پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ سمندروں میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی بین الاقوامی تجارت کا بنیادی تقاضا ہے۔

کسی اہم بحری راستے پر جہازوں کو خطرات لاحق رہیں تو شپنگ کمپنیوں کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنا پڑ تے ہیں جس سے وقت اور اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کا اثر عالمی منڈیوں اور بالآخر صارفین تک پہنچ جاتا ہے۔ باب المندب میںجہاز رانی کیلئے بڑھتے ہوئے خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز‘ جس سے تیل کی تجارت کا تقریباً 20 سے 25 فیصد حصہ گزرتا ہے‘ پہلے ہی سخت رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہے۔ اس دوران اگر باب المندب کا راستہ بھی رکاوٹوں کا شکار ہوتا ہے تو یہ غیر معمولی بحران کا سبب بنے گا اور ایسی صورتحال پاکستان کیلئے خوفناک ہو گی کیونکہ تیل کی قیمتیں پہلے ہی صارفین کی استطاعت سے باہر ہو چکی ہیں اور رومرہ زندگی کی اشیا پر اس کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں؛ چنانچہ ان تزویراتی اہمیت کے بحری راستوں کا کھلا رہنا پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشت کیلئے ناگزیر ہے۔
حوثیوں کی جانب سے صرف باب المندب کی بحری گزرگاہ کو درپیش خطرات ہی باعثِ تشویش نہیں بلکہ سعودی عرب کے خلاف اس گروہ کی اشتعال انگیزی بھی قابلِ مذمت ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی طرح کے بحرانوں سے گھرا ہوا تھا کہ یمن کے حوثی اس آگ پر تیل ڈالنے کا کام کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی اشتعال انگیزی اور باب المندب کی بحری ٹریفک کیلئے خطرات کی روک تھام کیلئے بلا تاخیر اقدامات کی ضرورت ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال مسلم ممالک میں مزید تنازعات کی متحمل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی یہ حالات مسلم اقوام کا کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ علاقائی تنازعات کی حقیقت اپنی جگہ مگر یہ اس راکھ کو کریدنے کا وقت نہیں۔ مسلم ریاستوں اور غیر ریاستی گروہوں کو یہ مان کر چلنے کی ضرورت ہے کہ حقیقت میں ایک تیسرا فریق ان کی تاک میں ہے۔ گروہی‘ سیاسی‘ نظری اختلافات اپنی جگہ مگر تاریخ کے اس مرحلے پر باہمی تصادم کا مطلب تیسرے مشترکہ دشمن کا کام آسان کرنا ہے۔ مسلم دنیا میں اس احساس اور فکر کا ابھرنا فی الوقت سب سے زیادہ ضروری ہے۔
یہی حکمت کا تقاضا ہے اور تدبر کی علامت۔ مشرق وسطیٰ کی مسلم ریاستوں کو ان تنازعات سے گریز کرنا اور ایک دوسرے کیلئے خلوص‘ اعتماد اور برداشت کا ماحول پیدا کرنا ہو گا۔ باہمی کدورتوں اور کینہ توزیوں کا کوئی نتیجہ نہیں۔ پاکستان‘ ترکیہ‘ قطر اور دیگر جو بھی اس کارِ خیر میں حصہ لے سکیں‘ انہیں مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے حل کیلئے آگے بڑھنا ہو گا۔ ایران امریکہ تنازع کا بھی جلد حل نکلنا چاہیے اور دیگر تنازعات کا بھی۔ جہاں تک باب المندب کی سلامتی کی بات ہے تو یہ عالمی تجارت کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔ اس آبی گزرگاہ کو تنازعات کا میدان بنانے کے بجائے اسے محفوظ‘ کھلا اور غیر جانبدار تجارتی راستہ برقرار رکھنا ہی خطے اور دنیا کے وسیع تر مفاد میں ہے۔