ریلوے، مال برداری
خیبر پختونخوا میں سڑکوں کی بندش کے دوران پاکستان ریلوے کی دو مال گاڑیوں کے ذریعے سترہ لاکھ لیٹر سے زائد ڈیزل کی ہنگامی سپلائی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ریلوے ملک میں مال برداری اور تیل کی ترسیل کا سب سے سستا‘ آسان اور تیز رفتار ذریعہ ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر ریلوے کے شعبے پر مناسب توجہ دی جائے تو یہ ملکی معیشت کی لائف لائن بن سکتا ہے۔ دنیا بھر میں ریلوے کو مال برداری کا زیادہ بھروسہ مند اور تیز رفتار ذریعہ مانا جاتا ہے۔ سڑکوں کے مقابلے میں ٹرین کے ذریعے سامان کی ترسیل سے نہ صرف اخراجات میں نمایاں کمی آتی ہے بلکہ شاہراہوں پر سے بھاری ٹریفک کا بوجھ بھی کم ہوتا ہے‘ جس سے سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور حادثات کی شرح میں کمی آتی ہے۔

ضرورت ہے کہ پاکستان میں بھی ریلوے کے ذریعے مال برداری کو وسعت دی جائے۔ اس کیلئے مین لائن اور مرکزی ٹریکس سمیت ریلوے لائنوں کی جدت کاری ناگزیر ہے۔ پاکستان میں آئے روز ٹرینوں کے پٹری سے اترنے اور حادثات کا شکار ہونے کے واقعات کا تدارک اسی وقت ہو سکتا ہے جب لائنوں کی مرمت‘ جدید سگنل سسٹم کی تنصیب اور فرسودہ پھاٹکوں کو خودکار نظام پر منتقل کرنے پر توجہ دی جائے۔ ریلوے کو اَپ گریڈ کر کے اسے سفر کا ایسا محفوظ‘ سستا اور جدید ذریعہ بنایا جا سکتا ہے جو پائیدار ملکی ترقی کا ضامن ہو۔