اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پٹرول سبسڈی، پائیدار اقدامات ضروری

وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرول پر ریلیف کیلئے آئی ایم ایف کو راضی کرنے اور جلد خوش کن پیشرفت کا عندیہ دیا ہے۔ اس وقت ملک میں پٹرول کی قیمتیں 390 روپے فی لیٹر کے لگ بھگ ہیں‘ جس سے نچلا اور متوسط طبقہ شدید معاشی پریشانی کا شکار ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے پٹرول پر فی لٹر سو روپے ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے مگر پٹرولیم منصوعات کی قیمتیں بڑھنے سے ان کے اثرات ہمہ گیر ہوتے ہیں جو ہر شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ پٹرول‘ ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے ٹرانسپورٹیشن اخراجات بھی بڑھ جاتے اور ہر چیز کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگرچہ وفاقی وزیر پٹرولیم نے ضرورت پڑنے پر 10 ماہ تک پٹرول ریلیف سکیم جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے مگر یہ عزم ملک کے معاشی حالات اور زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

جب ملکی معیشت پہلے ہی بھاری قرضوں اور بجٹ خسارے تلے دبی ہو اور وفاق صوبوں کا ترقیاتی بجٹ مستعار لے رہا ہو تو سرکاری اخراجات میں کٹوتی کر کے طویل مدت تک اربوں روپے کی سبسڈی دینا عملی طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کہ پٹرول پر اس وقت 114 روپے فی لیٹر مختلف سرچارج‘ ٹیکسز اور لیویز کے نام پر وصول کیے جا رہے ہیں۔ اگر ان ٹیکسوں کی شرح ہی نیچے آ جائے تو عوام کو بڑی سہولت میسر آ سکتی ہے۔ ہمیں وقتی ریلیف پیکیج کے بجائے ایک ایسی پائیدار اور طویل مدتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو عوام کو سہولت دے اور معیشت پر منفی اثرات بھی مرتب نہ کرے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں